تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ: } اور آپ بھی وحی الٰہی کے پابند ہونے کی وجہ سے ان کے قبلہ کو اختیار نہیں کر سکتے۔ {”بِتَابِعٍ“} میں باء کے ساتھ نفی کی تاکید ہو گئی، اس لیے ترجمہ ”اور نہ تو کسی صورت … “ کیا گیا ہے۔
➌ {وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ:} اور ان کے باہمی عناد کا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہود صخرۂ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں اور نصاریٰ بیت المقدس کی مشرقی جانب۔ (قرطبی)
➍ {وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ …:} { ”اَهْوَاءٌ“ } کی واحد { ”هَوًي“ } ہے جس کا معنی خواہش نفس ہے۔ قرآن وسنت کی پیروی تو «مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ» یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے علم کی پیروی ہے، اس کے سوا دین میں جو بھی شامل کیا جائے وہ انسانی خواہش کی پیروی ہے، خواہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے آئے، یا ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے، یا مسلمان اپنے پاس سے ایجاد کر لیں، سب خواہش کی پیروی ہے۔ اس لیے علمائے اسلام اہل بدعت کو عام طور پر ”اہل اہواء“ کہتے ہیں۔ صاحب کشاف نے ذکرفرمایا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے منع کرنے کی تاکید کئی وجوہ کی بنا پر کی گئی ہے۔ صاحب کشاف نے دس وجوہ سے اس تاکید کی تفصیل بیان کی ہے۔ مزید دیکھیے تفسیر ابن عاشور۔
اس آیت میں اگرچہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہے مگر مراد امت ہے، علماء اور عوام سب اس میں شامل ہیں، کیونکہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایسا کریں تو آپ سے کہا جائے: «اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ» تو امتی تو ایسا کرنے سے بالاولیٰ ظالموں میں سے ہوں گے۔ پھر کیا حال ہو گا ان عالموں کا جو منع کرنے کے بجائے تیجے، ساتے، چالیسویں، میلاد، تعزیے، عرس اور قوالی وغیرہ میں شرکت کرتے، خود ساختہ وظیفے کرتے، بعض وظیفوں میں قطب کی طرف رخ کرتے اور قبلے کی طرح اس کی تعظیم کرتے اور ان کاموں کو باعث ثواب قرار دیتے ہیں!
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[182] رسول ہونے کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کام نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو راضی کرتے پھریں اور کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر سمجھوتہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یہ ہے کہ جو علم ہم نے آپ کو دیا ہے اس پر سختی سے کاربند رہیں اور ظالم ہونے کا خطاب در اصل امت کو ہے۔ رسول بھلا وحی الٰہی کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہے۔ امت کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ رسول کے ذریعہ اللہ کا حکم جو تمہیں مل رہا ہے۔ اس پر پورا پورا یقین رکھو، اور اس کے مطابق عمل کرو، اور اگر تم نے یہود کو خوش کرنے کی کوشش کی تو تمہارا شمار ظالموں میں ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كان النبي - صلى الله عليه وسلم - من كمال حرصه على هداية الخلق يبذل [لهم] غاية ما يقدر عليه من النصيحة ويتلطف بهدايتهم، ويحزن إذا لم ينقادوا لأمر الله، فكان من الكفار من تمرَّد عن أمر الله واستكبر على رسل الله وترك الهدى عمداً وعدواناً فمنهم اليهود والنصارى أهل الكتاب الأول الذين كفروا بمحمد عن يقين لا عن جهل؛ فلهذا أخبره الله تعالى أنك لو {أتيت الذين أتُوا الكتاب بكل آيةٍ}؛ أي: بكلِّ برهان ودليل يوضح قولك ويبين ما تدعو إليه، {ما تبعوا قبلتك}؛ أي: ما تبعوك؛ لأن اتباع القبلة دليل على اتباعه، ولأن السبب هو شأن القبلة، وإنما كان الأمر كذلك لأنهم معاندون عرفوا الحقَّ وتركوه، فالآياتُ إنما [تفيد و] ينتفع بها من يتطلب الحق وهو مشتبه عليه؛ فتوضح له الآيات البينات، وأما من جزم بعدم اتباع الحق فلا حيلة فيه، وأيضاً فإن اختلافهم فيما بينهم حاصل، وبعضهم غير تابع قبلة بعض، فليس بغريب منهم مع ذلك أن لا يتبعوا قبلتك يا محمد وهم الأعداء حقيقة الحسدة. وقوله: {وما أنت بتابع قبلتهُم}؛ أبلغ من قوله ولا تتبع؛ لأن ذلك يتضمن أنه - صلى الله عليه وسلم -، اتصف بمخالفتهم، فلا يمكن وقوع ذلك منه، ولم يقل ولو أُتُوا بكل آية؛ لأنهم لا دليل لهم على قولهم، وكذلك إذا تبين الحق بأدلته اليقينية لم يلزم الإتيان بأجوبة الشُبَه الواردة عليه؛ لأنه لا حد لها، ولأنه يعلم بطلانها للعلم بأن كلَّ ما نافى الحق الواضح فهو باطل، فيكون حل الشبه من باب التبرع.
{ولئن اتَّبعت أهواءهُم}؛ إنما قال: أهواءهم ولم يقل دينهم؛ لأن ما هم عليه مجرد أهوية نفس، حتى هم في قلوبهم يعلمون أنه ليس بدين، ومن ترك الدين اتبع الهوى ولا محالة، قال تعالى: {أفرأيت من اتخذ إلهه هواه}، {من بعد ما جاءك من العلم}؛ بأنك على الحق وهم على الباطل، {إنَّك إذاً}؛ أي: إن اتبعتهم، فهذا احتراز لئلا تنفصل هذه الجملة عما قبلها ولو في الأفهام {لمن الظالمين}؛ أي: داخل فيهم ومندرج في جملتهم، وأي ظلم أعظم من ظلم من علم الحق والباطل؟ فآثر الباطل على الحق، وهذا وإن كان الخطاب له - صلى الله عليه وسلم -، فإن أمته داخلة في ذلك؛ وأيضاً فإذا كان هو - صلى الله عليه وسلم -، لو فعل ذلك ـ وحاشاه ـ صار ظالماً مع علو مرتبته وكثرة إحسانه فغيره من باب أولى وأحرى. ثم قال تعالى: