تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بیت اللہ کا قبلہ ہونا اس قدر پسند تھا کہ قبلہ بدلنے کی امید میں بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ واضح رہے کہ بیت المقدس شام میں ہے اور یہ مدینہ سے شمال کی طرف ہے اور بیت اللہ اس کے بالکل مخالف جنوب کی طرف ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ لوگ قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک صاحب آئے، انھوں نے کہا، آج رات نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن اترا ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم بھی اس کی طرف منہ کر لو۔ ان کا رخ شام کی طرف تھا تو انھوں نے گھوم کر کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔ [بخاری، التفسیر، باب: «ولئن أتیت الذین …» : ۴۴۹۰] اس سے صحابہ کا حدیث رسول بلکہ قرآن کریم کے ثبوت کے لیے ایک معتبر آدمی کی خبر (یعنی خبر واحد) پر اعتماد اور اس پر فوری عمل ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ بعض احادیث کو خبر واحد کہہ کر رد کر دیتے ہیں انھیں غور کرنا چاہیے۔
➋ {وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ:} سفر میں نفل نماز، کشتی میں نماز، حالتِ جنگ میں نماز یا جسے قبلہ معلوم نہ ہو سکے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، وہ جدھر منہ کر کے نماز پڑھ سکیں پڑھ سکتے ہیں، فرمایا: «اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ» [البقرۃ: ۱۱۵] ”تو تم جس طرف رخ کرو سو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“ البتہ سفر میں اگر ممکن ہو تو سواری کا رخ قبلہ کی طرف کر کے نفل نماز شروع کر لی جائے، اس کے بعد سواری کا رخ جدھر بھی ہو مضائقہ نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف کر کے تکبیر کہتے پھر سواری آپ کا رخ جدھر کو بھی کرتی نماز پڑھتے رہتے۔ [أبو داوٗد، صلاۃ السفر، باب التطوع علی الراحلۃ: ۱۲۲۵، و حسنہ الألبانی]
➌ {لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ:} یعنی یہود کو اپنی کتابوں کی پیشین گوئی کی بنا پر خوب علم ہے کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ مسجد حرام ہو گا، مگر وہ کفر و عناد اور حسد کی بنا پر چھپا رہے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”یہ لوگ (اہل کتاب) ہم پر کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا جمعہ کے دن پر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور وہ اس سے گمراہ ہو گئے اور اس قبلہ پر جس کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی اور وہ اس سے گمراہ ہو گئے اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر۔“ [أحمد: ۶؍۱۳۵، ح: ۲۵۰۸۲، إسنادہ صحیح]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد الحرام میں میزاب کے سامنے بیٹھے ہوئے اس آیت پاک کی تلاوت کی اور فرمایا میزاب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہے۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ایک قول یہ ہے کہ عین کعبہ کی طرف توجہ مقصود ہے اور دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ کعبہ کی جہت ہونا کافی ہے اور یہی مذہب اکثر ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مراد اس کی طرف ہے۔ [مستدرک حاکم:2692] ابوالعالیہ مجاہد عکرمہ سعید بن جبیر قتادہ ربیع بن انس وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:107/1] ایک حدیث میں بھی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ [سنن ترمذي:342، قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسئلہ مالکیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نمازی حالت نماز میں اپنے سامنے اپنی نظریں رکھے نہ کہ سجدے کی جگہ جیسے کہ شافعی، احمد اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم کا مذہب ہے اس لیے کہ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ منہ مسجد الحرام کی طرف کرو اور اگر سجدے کی جگہ نظر جمانا چاہے گا تو قدرے جھکنا پڑے گا اور یہ تکلیف کمال خشوع کے خلاف ہو گا بعض مالکیہ کا یہ قول بھی ہے کہ قیام کی حالت میں اپنے سینہ کی طرف نظر رکھے قاضی شریک کہتے ہیں کہ قیام کے وقت سجدہ کی جگہ نظر رکھے جیسے کہ جمہور جماعت کا قول ہے اس لیے کہ یہ پورا پورا خشوع خضوع ہے اور ایک حدیث بھی اس مضمون کی وارد ہوئی ہے اور رکوع کی حالت میں اپنے قدموں کی جگہ پر نظر رکھے اور سجدے کے وقت ناک کی جگہ اور التحیات کے وقت اپنی گود کی طرف پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ یہودی جو چاہیں باتیں بنائیں لیکن ان کے دل جانتے ہیں کہ قبلہ کی تبدیلی اللہ کی جانب سے ہے اور برحق ہے کیونکہ یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے لیکن یہ لوگ کفر وعناد اور تکبر و حسد کی وجہ سے اسے چھپاتے ہیں اللہ بھی ان کی ان کرتوتوں سے بے خبر نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول الله لنبيه: {قد نرى تقلب وجهك في السماء}؛ أي كثرة تردده في جميع جهاته شوقاً وانتظاراً لنزول الوحي باستقبال الكعبة، وقال: {وجهك}؛ ولم يقل بصرك لزيادة اهتمامه، ولأن تقليب الوجه مستلزم لتقليب البصر، {فلنُوَلِّيَنَّكَ}؛ أي: نوجهك لولايتنا إياك، {قبلة ترضاها}؛ أي: تحبها، وهي الكعبة، وفي هذا بيان لفضله وشرفه - صلى الله عليه وسلم -، حيث أن الله تعالى يسارع في رضاه. ثم صرح له باستقبالها فقال: {فولِّ وجهك شطر المسجد الحرام}؛ والوجه: ما أقبل من بدن الإنسان {وحيث ما كنتم}؛ أي: من بر وبحر شرق وغرب جنوب وشمال، {فولوا وجوهكم شطره}؛ أي: جهته، ففيها اشتراط استقبال الكعبة للصلوات كلها فرضها ونفلها، وأنه إن أمكن استقبال عينها وإلا فيكفي شطرها وجهتها، وأن الالتفات بالبدن مبطل للصلاة؛ لأن الأمر بالشيء نهي عن ضده.
ولما ذكر تعالى ـ فيما تقدم ـ المعترضين على ذلك من أهل الكتاب وغيرهم وذكر جوابهم، ذكر هنا أن أهل الكتاب والعلمِ منهم يعلمون أنك في ذلك على حقٍّ واضحٍ لما يجدونه في كتبهم فيعترضون عناداً وبغياً، فإذا كانوا يعلمون بخطئهم فلا تبالوا بذلك، فإن الإنسان إنما يغمه اعتراض من اعترض عليه إذا كان الأمر مشتبهاً وكان ممكناً أن يكون معه صواب، فأما إذا تيقن أن الصواب والحق مع المعترض عليه وأن المعترض معاند عارف ببطلان قوله فإنه لا محل للمبالاة، بل يُنتظَر بالمعترض العقوبة الدنيوية والأخروية فلهذا قال تعالى: {وما الله بغافل عمَّا يعملُون}؛ بل يحفظ عليهم أعمالهم ويجازيهم عليها، وفيها وعيد للمعترضين وتسلية للمؤمنين.