تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 143

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ وَ مَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِ ؕ وَ اِنۡ کَانَتۡ لَکَبِیۡرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیۡنَ ہَدَی اللّٰہُ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیۡعَ اِیۡمَانَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴۳﴾
اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے اور ہم نے وہ قبلہ جس پر تو تھا، مقرر نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ ہم جان لیں کون اس رسول کی پیروی کرتا ہے، اس سے (جدا کر کے) جو اپنی دونوں ایڑیوں پر پھر جاتا ہے اور بلاشبہ یہ بات یقینا بہت بڑی تھی مگر ان لوگوں پر جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھارا ایمان ضائع کر دے۔ بے شک اللہ لوگوں پر یقینا بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
En
ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواه ہوجائیں، جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اسلام کے ابتدائی دنوں میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم سے مقصود یہ تھا ﴿اِلَّا لِنَعْلَمَ مگر تاکہ ہم جان لیں یعنی ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ تمام امور کو ان کے وجود میں آنے سے قبل جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے کامل عدل اور اپنے بندوں پر حجت قائم کرنے کی بنا پر اس علم کے ساتھ ثواب اور عقاب کا تعلق نہیں۔ بلکہ جب ان کے اعمال وجود میں آتے ہیں تب ان پر ثواب و عقاب مرتب ہوتا ہے۔ (مصنف رحمہ اللہ کا قول: ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے ایک مبہم عبارت ہے جو وضاحت کی محتاج ہے ہم ائمہ تفسیر امام نسفی، امام ابوالسعود، امام ابن کثیر اور امام ابوحیان رحمہ اللہ نے جو کچھ اپنی تفاسیر میں بیان کیا ہے یہاں ذکر کرتے ہیں پس ہم کہتے ہیں کہ (لِنَعْلَمَ)کا مطلب ہے، تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کر سکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے سامنے ان کا حال منکشف ہو جائے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ (ال عمران:۳؍۱۷۹) حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے پس اللہ تعالیٰ نے علم کو تمییز کی جگہ میں استعمال کیا ہے، کیونکہ علم ہی سے تمیز ہوتی ہے اور وہی تمییز کا سبب ہے۔ لہٰذا سبب یعنی علم کا اطلاق کر کے مسبب یعنی تمییز مراد لی گئی ہے۔ ہمارے اس موقف کی تائید ایک قراء ت سے بھی ہوتی ہے (لِیُعْلَمَ) یعنی نون کی بجائے یا اور صیغہ مجہول کے ساتھ۔ (تاکہ جان لیا جائے) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے علم کو اپنی طرف اسناد کیا ہے، کیونکہ وہ اس کے خاص بندے ہیں، یا یہ ملاطفت خطاب ہے، مثلاً آپ اس شخص سے جوسونے کے پگھلنے کا منکر ہے، کہتے ہیں ہم سونے کو آگ میں ڈالتے ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ آیا سونا پگھلتا ہے یا نہیں۔البحر المحیط میں علامہ ابوحیان رحمہ اللہ رقم طراز ہیں: اللہ تعالیٰ کے ارشاد (لِنَعْلَمَ) میں اس علم سے مراد ابتدائے علم ہے (یعنی پہلے سے ہی ہمیں معلوم تھا) اس کا ظاہر معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کا حادث ہونا محال ہے۔ (یعنی یہ ناممکن ہے کہ پہلے اللہ کے علم میں نہ ہو اور بعد میں اسے معلوم ہو) چنانچہ تاویل کرتے ہوئے مضاف کو محذوف مانا جائے گا۔ تب آیت کا مفہوم یہ ہو گا: تاکہ ہمارا رسول اور اہل ایمان جان لیں ان کے علم کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان اس کے مقرب بندے ہیں تب اس کا شمار مجاز حذف میں ہو گا یا علم کا اطلاق تمییز پر کیا گیا ہے کیونکہ علم ہی کی بنا پر تمیز ہوتی ہے۔ یعنی تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کر لیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ (ال عمران:۳؍۱۷۹) حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے اور اس طرح اس کا شمار اطلاقِ سبب کے مجاز میں سے ہو گا اور مراد اس سے مسبب ہو گا۔ یہ تاویل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔۔۔ یا اس سے ان کی اطاعت یا معصیت کے وقت اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر مراد ہے، کیونکہ اس وقت کے ساتھ ہی اس علم کا تعلق ثواب و عقاب سے ہو گا، یا یہاں مستقبل سے ماضی مراد لیا ہے۔ تب مفہوم یہ ہو گا جب ہم نے جان لیا کہ رسول کی اتباع کون کرتا ہے اور اس کی مخالفت کون کرتا ہے۔ (ملخصاً) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں یہ معنی بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور یہ معنی بنایا ہے: تاکہ اہل ایمان جان لیں اور کمزور ایمان والے لوگوں کا حال منکشف ہو جائے ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے تیرے لیے پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا تھا پھر ہم نے تجھے کعبہ کی طرف پھیر دیا، تاکہ ان لوگوں کا حال ظاہر ہو جائے جو تیری اتباع کرتے ہیں، تیری اطاعت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ مل کر قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال ظاہر ہو جائے جو الٹے پاؤں پھر جاتے ہیں۔ (حاشیہ: از محمد زہری النجار، من علمائے ازہر) مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ قبلہ صرف اس لیے مشروع کیا ہے تاکہ ہم جان لیں اور آزما لیں ﴿مَنْ یَّتَّ٘بِعُ الرَّسُوْلَ کون رسول کی اتباع کرتا ہے۔ یعنی کون اس رسول پر ایمان لا کر ہر حال میں اس کی پیروی کرتا ہے کیونکہ وہ بندہ مامور اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ نیز کتب سابقہ نے خبر دی ہے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کو قبلہ بنائیں گے پس صاحب انصاف جس کا مقصود و مطلوب محض حق ہے۔ اس سے اس کے ایمان اور اطاعت رسول میں اضافہ ہوتا ہے۔ رہا وہ شخص جو الٹے پاؤں پھر گیا اور اس نے حق سے روگردانی کی اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کی تو اس کا کفر بڑھتا جاتا ہے اور اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور وہ شبہات پر مبنی باطل دلیل پیش کرتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
﴿وَاِنْ كَانَتْ اور بلاشبہ یہ بات ہے۔ یعنی (عام لوگوں کے لیے) آپ کا بیت المقدس سے منہ پھیرنا ﴿لَؔكَبِیْرَةً بہت شاق ہے ﴿اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور انھوں نے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان لیا، وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا اقرار کیا کہ اس نے ان کا رخ اس عظیم گھر کی طرف پھیر دیا جسے اس نے روئے زمین کے تمام خطوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کا قصد کرنے کو ارکان اسلام میں سے ایک رکن اور گناہوں کو مٹانے والا بنایا ہے، اسی لیے اہل ایمان پر اس کا ماننا آسان ہو گیا اور ان کے سوا دیگر لوگوں پر رخ کی تبدیلی بہت شاق گزری۔ ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ اور اللہ ایسا نہیں کہ تمھارے ایمان کو یونہی ضائع کردے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب ہے نہ یہ اس کی ذات اقدس کے لائق ہے (کہ وہ تمھارے ایمان کو ضائع کرے) بلکہ ایسا کرنا تو اس پر ممتنع (ناممکن) ہے، پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ تمھارے ایمان کو ضائع کرنا اس کی ذات اقدس پر ممتنع اور محال ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور ایمان سے نواز کر ان پر احسان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی حفاظت کرے گا اسے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔
اللہ کا ایمان کی حفاظت کرنا دو طرح سے ہے:
(۱)ان کو ہر فساد، ایمان میں نقص پیدا کرنے والی تکلیف دہ آزمائشوں اور ایمان سے روکنے والی خواہش نفس سے بچا کر ان کے ایمان کو ضائع اور باطل ہونے سے محفوظ رکھنا۔
(۲)ایمان کی نشوونما کے لیے ان کو ایسے اعمال کی توفیق عطا کرنا جن سے ان کے ایمان میں اضافہ اور یقین کامل حاصل ہوتا ہے۔ پس ابتدائی طور پر جس طرح اس نے ایمان کی طرف تمھاری راہ نمائی کی، اسی طرح وہ تمھارے ایمان کی حفاظت کرے گا۔ اس کو اور اس کے اجر و ثواب کو نشوونما دے کر اپنی نعمت کا اتمام کرے گا اور ایمان کو مکدر کرنے والے ہر عمل سے اس کی حفاظت کرے گا بلکہ جب ایسی آزمائشیں آئیں جن سے مقصود سچے مومن کو جھوٹے دعوے دار سے الگ کرنا ہو، تو یہ آزمائشیں مومنوں کو کھرا ثابت کرتی اور ان کی سچائی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔
گویا اس آیت میں اس بات سے احتراز (بچاؤ) ہے جو کہی جا سکتی تھی کہ اللہ کا قول ﴿وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّ٘بِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ کبھی کبھی بعض مومنوں کے لیے ترک ایمان کا سبب بنتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ اس امتحان یا دیگر کسی آزمائش کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں وہ تمام اہل ایمان بھی شامل ہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے وفات پا چکے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے اپنے وقت میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت یہی ہے کہ ہر وقت اس کے حکم کی پیروی کی جائے۔ اس آیت کریمہ میں اہل سنت و الجماعت کے اس مذہب کی دلیل ہے کہ ایمان میں اعمال جوارح داخل ہیں۔
﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان اور صاحب رحمت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت و رأفت کرنے والا ہے۔ یہ اس کی عظیم رحمت و رأفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو نعمت ایمان عطا کر کے اس نعمت کو مکمل کیا۔ اور ان کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دیا جو ایمان کا صرف زبانی دعویٰ کرتے تھے۔ ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیا جس کے ذریعے سے ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کے درجات بلند کیے اور سب سے زیادہ عزت و شرف کے حامل گھر کی طرف ان کا رخ موڑ دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {وما جعلنا القبلة التي كنت عليها}؛ وهي: استقبال بيت المقدس أولاً، {إلا لنعلم}؛ أي: علماً يتعلق به الثواب والعقاب، وإلا فهو تعالى عالم بكل الأمور قبل وجودها، ولكن هذا العلم لا يعلق عليه ثواباً ولا عقاباً لتمام عدله وإقامة الحجة على عباده، بل إذا وجدت أعمالهم ترتب عليها الثواب والعقاب، أي شرعنا تلك القبلة لنعلم ونمتحن {من يتبع الرسول}؛ ويؤمن به فيتبعه على كل حال لأنه عبد مأمور مدبر، ولأنه قد أخبرت الكتب المتقدمة أنه يستقبل الكعبة فالمنصف الذي مقصوده الحق مما يزيده ذلك إيماناً وطاعة للرسول، وأما من انقلب على عقبيه وأعرض عن الحق واتبع هواه فإنه يزداد كفراً إلى كفره وحيرة إلى حيرته ويدلي بالحجة الباطلة المبنية على شبهة لا حقيقة لها {وإن كانت}؛ أي: صرفك عنها {لكبيرة}؛ أي: شاقة {إلا على الذين هدى الله}؛ فعرفوا بذلك نعمة الله عليهم وشكروا وأقروا له بالإحسان حيث وجههم إلى هذا البيت العظيم الذي فضله على سائر بقاع الأرض وجعل قصده ركناً من أركان الإسلام وهادماً للذنوب والآثام، فلهذا خفَّ عليهم ذلك وشقَّ على من سواهم.

ثم قال تعالى: {وما كان الله ليضيع إيمانكم}؛ أي: ما ينبغي له ولا يليق به تعالى بل هي من الممتنعات عليه، فأخبر أنه ممتنع عليه ومستحيل أن يضيع إيمانكم، وفي هذا بشارة عظيمة لمن منَّ الله عليهم بالإسلام والإيمان بأن الله سيحفظ عليهم إيمانهم فلا يضيعه، وحفظه نوعان: حفظ عن الضياع والبطلان بعصمته لهم عن كل مفسد ومزيل له ومنقص من المحن المقلقة والأهواء الصادة، وحفظ بتنميته لهم وتوفيقهم لما يزداد به إيمانهم ويتم به إيقانهم، فكما ابتدأكم بأن هداكم للإيمان فسيحفظه لكم ويتم نعمته بتنميته وتنمية أجره وثوابه وحفظه من كل مكدر، بل إذا وجدت المحن التي المقصود منها تبيين المؤمن الصادق من الكاذب فإنها تمحص المؤمنين وتظهر صدقهم، وكأن في هذا احترازاً عما قد يقال أن قوله: {وما جعلنا القبلة التي كنت عليها إلا لنعلم من يتبع الرسول ممن ينقلب على عقبيه}؛ قد يكون سبباً لترك بعض المؤمنين إيمانهم فدفع هذا الوهم بقوله: {وما كان الله ليضيع إيمانكم}؛ بتقديره لهذه المحنة أو غيرها، ودخل في ذلك من مات من المؤمنين قبل تحويل الكعبة فإن الله لا يضيع إيمانهم لكونهم امتثلوا أمر الله وطاعة رسوله في وقتها، وطاعة الله امتثال أمره في كل وقت بحسب ذلك. وفي هذه الآية دليل لمذهب أهل السنة والجماعة أن الإيمان تدخل فيه أعمال الجوارح.

وقوله: {إن الله بالنَّاسِ لرءوفٌ رحيمٌ}؛ أي: شديد الرحمة بهم عظيمها، فمن رأفته ورحمته بهم أن يُتِمَّ عليهم نعمته التي ابتدأهم بها، وأن ميز عنهم من دخل في الإيمان بلسانه دون قلبه، وأن امتحنهم امتحاناً زاد به إيمانهم وارتفعت به درجتهم، وأن وجههم إلى أشرف البيوت وأجلها.