تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 130

وَ مَنۡ یَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّۃِ اِبۡرٰہٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِہَ نَفۡسَہٗ ؕ وَ لَقَدِ اصۡطَفَیۡنٰہُ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۳۰﴾
اور کون ہے جو ابراہیم کی ملت سے بے رغبتی کرے گا سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو بے وقوف بنا لیا، اور بے شک ہم نے اسے دنیا میں چن لیا اور بلا شبہ وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں سے ہے۔ En
اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے
En
دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جو محض بےوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔ ﴿اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ یعنی ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کر دیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا: ﴿وَلَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا انھیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَ٘مِنَ الصّٰؔلِحِیْنَ اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ما يرغب {عن ملة إبراهيم}؛ بعد ما عرف من فضله، {إلا من سفه نفسه}؛ أي: جهلها وامتهنها ورضي لها بالدون وباعها بصفقة المغبون كما أنه لا أرشد وأكمل ممَّن رغب في ملة إبراهيم، ثم أخبر عن حالته في الدنيا والآخرة فقال: {ولقد اصطفيناه في الدنيا}؛ أي: اخترناه ووفقناه للأعمال التي صار بها من المصطفين الأخيار، {وإنه في الآخرة لمن الصالحين}؛ الذين لهم أعلى الدرجات.