تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 131

اِذۡ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗۤ اَسۡلِمۡ ۙ قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾
جب اس سے اس کے رب نے کہا فرماںبردار ہو جا، اس نے کہا میں جہانوں کے رب کے لیے فرماں بردار ہوگیا۔ En
جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
En
جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔
پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذ قال له ربُّه أسلم قال}؛ امتثالاً لربه {أسلمتُ لربِّ العالمين}؛ إخلاصاً وتوحيداً ومحبة وإنابة فكان التوحيدُ للهِ نعته، ثم ورَّثه في ذريته ووصاهم به، وجعلها كلمة باقية في عقبه، وتوارثت فيهم حتى وصلت ليعقوبَ فوصى بها بنيه.