تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِذْقَالَلَهٗرَبُّهٗۤاَسْلِمْ١ۙقَالَ﴾”اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ“ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسْلَمْتُلِرَبِّالْعٰلَمِیْنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔
پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إذ قال له ربُّه أسلم قال}؛ امتثالاً لربه {أسلمتُ لربِّ العالمين}؛ إخلاصاً وتوحيداً ومحبة وإنابة فكان التوحيدُ للهِ نعته، ثم ورَّثه في ذريته ووصاهم به، وجعلها كلمة باقية في عقبه، وتوارثت فيهم حتى وصلت ليعقوبَ فوصى بها بنيه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔