تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 129

رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۲۹﴾٪
اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے
En
اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یعنی ہماری اولاد میں رسول مبعوث فرما تاکہ وہ ان دونوں کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا: ﴿یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ یعنی وہ لفظاً حفظاً اور حفظ کرانے کے لیے تیری آیات کی تلاوت کرے ﴿وَیُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ یعنی معنیٰ کے اعتبار سے انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ﴿وَیُزَكِّیْهِمْ یعنی اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تربیت کرے اور اعمال قبیحہ سے ان کو بچائے، کیونکہ قبیح اور ردی اعمال کے ہوتے ہوئے نفس پاک نہیں ہو سکتا ﴿اِنَّكَ اَنْتَ الْ٘عَزِیْزُ یعنی تو ہر چیز پر غالب ہے۔ عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی قوت کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکے ﴿ الْحَكِیْمُ حکیم اس ہستی کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھے۔ پس تو اپنے غلبہ و حکمت کے تحت ان کے اندر اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں برگزیدہ نبیوں کی دعا قبول فرما لی اور تمام مخلوق پر عام طور پر اور اولاد ابراہیم و اسماعیل پر خاص طور پر رحم کرتے ہوئے اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ’أَنَا دَعْوَۃُ أَبِی اِبْرَاھِیْمَ‘ (البدايۃ والنہايۃ، 2؍275 والصحیحۃ، رقم:1546،1545) میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ربنا وابعث فيهم}؛ أي: في ذريتنا {رسولاً منهم}؛ ليكون أرفع لدرجتهما ولينقادوا له وليعرفوه حقيقة المعرفة {يتلو عليهم آياتك}؛ لفظاً وحفظاً وتحفيظاً، {ويعلمهم الكتاب والحكمة}؛ معنى {ويزكيهم}؛ بالتربية على الأعمال الصالحة والتبري من الأعمال الردية التي لا تزكو النفس معها، {إنك أنت العزيز}؛ أي: القاهر لكلِّ شيء الذي لا يمتنع على قوته شيء {الحكيم}؛ الذي يضع الأشياء مواضعها، فبعزتك وحكمتك ابعث فيهم هذا الرسول.

فاستجاب اللهُ لهما؛ فبعث الله هذا الرسول الكريم الذي رحم الله به ذريتهما خاصة وسائر الخلق عامة، ولهذا قال عليه الصلاة والسلام: «أنا دعوة أبي إبراهيم».