تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 6

یَّرِثُنِیۡ وَ یَرِثُ مِنۡ اٰلِ یَعۡقُوۡبَ ٭ۖ وَ اجۡعَلۡہُ رَبِّ رَضِیًّا ﴿۶﴾
جو میرا وارث بنے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! اسے پسند کیا ہوا بنا۔ En
جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو
En
جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بنده بنا لے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖ ۗ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه الولاية ولاية الدين وميراث النبوَّة والعلم والعمل، ولهذا قال: {يرثني ويَرِثُ من آل يعقوبَ واجْعَلْه ربِّ رضيًّا}؛ أي: عبداً صالحاً ترضاه وتحبِّبه إلى عبادك.

والحاصل أنَّه سأل الله ولداً ذكراً صالحاً يبقى بعد موته ويكون وليًّا من بعده ويكون نبيًّا مرضيًّا عند الله وعند خلقِهِ، وهذا أفضل ما يكون من الأولاد، ومن رحمة الله بعبدِهِ أنْ يرزقَه ولداً صالحاً جامعاً لمكارم الأخلاق ومحامد الشيم، فرحمه ربُّه واستجاب دعوته فقال: