تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 5

وَ اِنِّیۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِیَ مِنۡ وَّرَآءِیۡ وَ کَانَتِ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرًا فَہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۙ﴿۵﴾
اور بے شک میں اپنے پیچھے قرابت داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی شروع سے بانجھ ہے، سو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر۔ En
اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما
En
مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے، میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنِّیْ خِفْتُ الْ٘مَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہو گا؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کر سکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریا علیہ السلام کی شفقت اور خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہو جائے اورآپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور رسالت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لیے حضرت زکریا علیہ السلام نے دعا کی کہ وہ انھیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔
انھوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہو گئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انھوں نے عرض کی: ﴿ فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنِّي خفتُ المواليَ من ورائي}؛ أي: وإني خفتُ من يتولَّى على بني إسرائيل من بعد موتي أن لا يقوموا بدينك حقَّ القيام، ولا يدعوا عبادك إليك.

وظاهر هذا أنَّه لم يَرَ فيهم أحداً فيه لياقةٌ للإمامة في الدين، وهذا فيه شفقةُ زكريَّا عليه السلام ونصحُه وأنَّ طلبه للولد ليس كطلب غيره؛ قصدُهُ مجردُ المصلحة الدنيويَّة، وإنَّما قصدُه مصلحة الدين والخوف من ضياعه، ورأى غيرَه غيرَ صالح لذلك، وكان بيتُه من البيوت المشهورة في الدِّين ومعدن الرسالة ومظنَّة للخير، فدعا الله أن يرزقَه ولداً يقوم بالدين من بعدِهِ، واشتكى أنَّ امرأته عاقر؛ أي: ليست تلدُ أصلاً، وأنَّه قد بلغ من الكبر عتيًّا؛ أي: عمراً يندُرُ معه وجود الشهوة والولد. {فهب لي من لَدُنكَ وليًّا}.