تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ”یحییٰ“ علیہ السلام کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ”یحییٰ“ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چنانچہ یحییٰ علیہ السلام نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب وروح کی زندگی۔ ﴿ لَمْنَجْعَلْلَّهٗمِنْقَبْلُسَمِیًّا ﴾”نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی“ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰ علیہ السلام سے پہلے آپ جیسا کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف حمیدہ سے ان کے متصف ہونے کی بشارت ہے، نیز یہ کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام اپنے سے پہلے تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں … مگر اس احتمال کے مطابق، اس عموم میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہم السلام اور ان جیسے دیگر انبیاء کرام کو مخصوص کرنا ہو گا جو قطعی طور پر حضرت یحییٰ علیہ السلام سے افضل ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: بشره الله تعالى على يد الملائكة بيحيى، وسمَّاه الله له يحيى، وكان اسماً موافقاً لمسمَّاه؛ يحيا حياة حسيَّةً فتتمُّ به المنَّة، ويحيا حياةً معنويَّة، وهي حياة القلب والروح بالوحي والعلم والدين. {لم نجعل له من قبلُ سميًّا}؛ أي: لم يسمِّ هذا الاسم قبله أحدٌ، ويُحتمل أنَّ المعنى: لم نجعلْ له من قبل مثيلاً ومسامياً؛ فيكون ذلك بشارةً بكماله واتِّصافه بالصفات الحميدة، وأنَّه فاق من قبله، ولكن على هذا الاحتمال؛ هذا العموم لا بدَّ أن يكون مخصوصاً بإبراهيم وموسى ونوح عليهم السلام ونحوهم ممَّن هو أفضلُ من يحيى قطعاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔