(آیت 6) ➊ {وَاجْعَلْهُرَبِّرَضِيًّا: ”رَضِيًّا“”فَعِيْلٌ“} بمعنی {”مَفْعُوْلٌ“} ہے، مطلب پسند کیا ہوا، یعنی وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں سب کا پسندیدہ ہو۔ اللہ جسے پسند کرلے لوگ بھی اس سے محبت کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَاأَحَبَّاللّٰهُالْعَبْدَنَادَیجِبْرِيْلَإِنَّاللّٰهَيُحِبُّفُلَانًافَأَحْبِبْهُفَيُحِبُّهٗجِبْرِيْلُفَيُنَادِيْجِبْرِيْلُفِيْأَهْلِالسَّمَاءِإِنَّاللّٰهَيُحِبُّفُلاَنًافَأَحِبُّوْهٗفَيُحِبُّهٗأَهْلُالسَّمَاءِثُمَّيُوْضَعُلَهٗالْقَبُوْلُفِيالْأَرْضِ][بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللّٰہ علیہم: ۳۲۰۹، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ]”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتے ہیں، سو تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“ ➋ زکریا علیہ السلام کی بیٹے کے لیے دعا ایک تو یہاں آئی ہے، ایک سورۂ آل عمران (۳۸) میں اور ایک سورۂ انبیاء (۸۹) میں۔ تینوں جگہ ہی الفاظ معانی کا خزینہ اور موتیوں کا نگینہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور بانجھ اور بوڑھی بیوی کو اولاد کے قابل بنا کر یحییٰ علیہ السلام عطا فرما دیے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۹۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ جو میرے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے پروردگار! اسے پسندیدہ [8] انسان بنانا“
[8] علماء انبیاء کے وارث ہیں:۔
یہاں وراثت سے مراد علم دین کی وراثت ہے۔ کیونکہ انبیاء کی یہی وراثت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے «ان العلماء هم ورثة الانبياء»[بخاري، كتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل] ”یعنی علماء حضرات ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں“ پھر میرے اس لڑکے کو اپنا پسندیدہ بھی بنایا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کے اخلاق و کردار اس قدر پاکیزہ ہوں کہ وہ سب لوگوں کی نظر میں مقبول و محبوب اور پسندیدہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ یَّرِثُنِیْوَیَرِثُمِنْاٰلِیَعْقُوْبَ١ۖ ۗ وَاجْعَلْهُرَبِّرَضِیًّا ﴾”جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ“ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذه الولاية ولاية الدين وميراث النبوَّة والعلم والعمل، ولهذا قال: {يرثني ويَرِثُ من آل يعقوبَ واجْعَلْه ربِّ رضيًّا}؛ أي: عبداً صالحاً ترضاه وتحبِّبه إلى عبادك.
والحاصل أنَّه سأل الله ولداً ذكراً صالحاً يبقى بعد موته ويكون وليًّا من بعده ويكون نبيًّا مرضيًّا عند الله وعند خلقِهِ، وهذا أفضل ما يكون من الأولاد، ومن رحمة الله بعبدِهِ أنْ يرزقَه ولداً صالحاً جامعاً لمكارم الأخلاق ومحامد الشيم، فرحمه ربُّه واستجاب دعوته فقال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔