تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 13

وَّ حَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَ زَکٰوۃً ؕ وَ کَانَ تَقِیًّا ﴿ۙ۱۳﴾
اور اپنی طرف سے بڑی شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔ En
اور اپنے پاس شفقت اور پاکیزگی دی تھی۔ اور پرہیزگار تھے
En
اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی، وه پرہیزگار شخص تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نیز ﴿ وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا اور شفقت اپنی طرف سے یعنی رحمت اور رافت عطا کی جس کی بنا پر ان کے تمام امور آسان ہوئے، ان کے احوال کی اصلاح ہوئی اور ان کے تمام اعمال درست ہوئے۔ ﴿وَزَؔكٰوةً اور ستھرائی یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں گناہوں اور آفات سے پاک کیا۔ پس ان کا قلب پاک اور ان کی عقل صیقل ہو گئی اور یہ چیز تمام اوصاف مذمومہ اور اخلاق قبیحہ کے زائل ہونے اور اوصاف محمودہ اور اخلاق حسنہ میں اضافے کو متضمن ہیں۔ ﴿وَؔكَانَ تَقِیًّا اور تھے وہ پرہیز گار یعنی مامورات کی تعمیل کرنے والے اور محظورات کو ترک کرنے والے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وآتيناه أيضاً {حناناً من لَدُنّا}؛ أي: رحمة ورأفة تيسَّرتْ بها أموره، وصلحتْ بها أحواله، واستقامت بها أفعاله. {وزكاة}؛ أي: طهارة من الآفات والذنوب، فَطَهُرَ قلبُه وتزكَّى عقلُه، وذلك يتضمَّن زوال الأوصاف المذمومة والأخلاق الرديئة وزيادة الأخلاق الحسنة والأوصاف المحمودة، ولهذا قال: {وكان تَقِيًّا}؛ أي: فاعلاً للمأمور تاركاً للمحظور.