(آیت 13) {وَحَنَانًامِّنْلَّدُنَّا …: ”حَنَانًا“} کا عطف {”الْحُكْمَ“} پر ہے، یعنی ہم نے اسے حکم (قوتِ فیصلہ) اور بڑی شفقت اور پاکیزگی عطا کی۔ {”حَنَانًا“} اور {”زَكٰوةً“} پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی شفقت اور پاکیزگی“ کیا ہے۔ پاکیزگی سے مراد اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہے جو گناہوں سے بچنے سے حاصل ہوتی ہے۔ {”تَقِيًّا“”وَقٰييَقِيْ“} سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے، پہلی واؤ کو تاء سے بدل دیا گیا ہے، یعنی اللہ کی نافرمانی سے بہت بچنے والا تھا۔ {”مِنْلَّدُنَّا“} اپنے پاس سے، یعنی یہ حکم حنان اور زکوٰۃ کسی اور کے پاس ہیں ہی نہیں، صرف ہمارے پاس ہیں اور ہم ہی نے اپنے پاس سے انھیں عطا کیے۔