تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 12

یٰیَحۡیٰی خُذِ الۡکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ ؕ وَ اٰتَیۡنٰہُ الۡحُکۡمَ صَبِیًّا ﴿ۙ۱۲﴾
اے یحییٰ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔ En
اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی
En
اے یحيٰ! میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

گزشتہ کلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰ علیہ السلام اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اسکے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں … یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انھوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت عطا کی جو کسی اور میں نہ تھی اس لیے فرمایا: ﴿وَاٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّا ہم نے اسے بچپن ہی سے احکام الٰہی اور ان کی حکمتوں کی معرفت سے نوازا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

دلَّ الكلام السابق على ولادة يحيى وشبابه وتربيته، فلما وصل إلى حالةٍ يفهم فيها الخطاب؛ أمره الله أنْ يأخذ الكتاب بقوَّة؛ أي: بجدٍّ واجتهادٍ، وذلك بالاجتهاد في حفظ ألفاظه وفهم معانيه والعمل بأوامره ونواهيه، هذا تمامُ أخذِ الكتاب بقوَّة، فامتثل أمر ربِّه، وأقبل على الكتاب فحفظه وفهمه، وجعل الله فيه من الذَّكاء والفطنة ما لا يوجد في غيره، ولهذا قال: {وآتَيْناه الحكم صبيًّا} [أي: معرفة أحكام اللَّه والحكم بها وهو في حال صغره وصباه].