تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور جو کوئی مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی اور اہل جنت میں سے ہوتا ہے وہ جنت جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے اور مومن متقی کو دنیاوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر مرتب کر رکھا ہے۔﴿ وَّبَرًّۢابِوَالِدَیْهِ ﴾”اور تھے وہ نیکی کرنے والے اپنے ماں باپ کے ساتھ“ نیز یحییٰ علیہ السلام اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے یعنی ان کی نافرمانی کرنے والے اور ان کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے نہ تھے بلکہ وہ قول و فعل کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ ﴿وَلَمْیَكُنْجَبَّارًاعَصِیًّا ﴾”اور نہ تھے وہ سرکش، خود سر“ یعنی وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی کرنے والے نہ تھے اور وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بڑا سمجھتے تھے نہ اپنے والدین سے بلکہ وہ متواضع، عاجز، مطیع اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والے تھے۔ پس وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن كان مؤمناً تقيًّا؛ كان لله وليًّا، وكان من أهل الجنة التي أُعدَّت للمتقين، وحصل له من الثواب الدنيويِّ والأخرويِّ ما رتَّبه الله على التَّقوى، وكان أيضاً {برًّا بوالديه}؛ أي: لم يكن عاقًّا ولا مسيئاً إلى أبويه، بل كان محسناً إليهما بالقول والفعل. {ولم يكن جباراً عَصِيًّا}؛ أي: لم يكن متجبراً متكبراً عن عبادة الله، ولا مترفِّعاً على عباد الله ولا على والديه، بل كان متواضعاً متذلِّلاً مطيعاً أوَّاباً لله على الدوام، فجمع بين القيام بحقِّ الله وحق خلقه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔