اس نے کہا اچھا اگر آپ میرے ساتھ ہی چلنے پر اصرار کرتے ہیں تو یاد رہے کسی چیز کی نسبت مجھ سے کچھ نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود اس کی نسبت کوئی تذکره نہ کروں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس وقت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ﴿ فَاِنِاتَّبَعْتَنِیْفَلَاتَسْـَٔلْنِیْعَنْشَیْءٍحَتّٰۤىاُحْدِثَلَكَمِنْهُذِكْرًا ﴾”پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر“ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحينئذٍ قال له الخضر: {فإنِ اتَّبَعْتَني فلا تَسْألْني عن شيءٍ حتَّى أحدِثَ لك منه ذِكْراً}؛ أي: لا تبتدئني بسؤال منك وإنكارٍ حتى أكون أنا الذي أخبرك بحالِهِ في الوقت الذي ينبغي إخبارُك به، فنهاه عن سؤالِهِ، ووعَدَه أن يوقفه على حقيقة الأمر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔