ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِیۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِیۡ عَنۡ شَیۡءٍ حَتّٰۤی اُحۡدِثَ لَکَ مِنۡہُ ذِکۡرًا ﴿٪۷۰﴾
کہا پھر اگر تو میرے پیچھے چلا ہے تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں مت پوچھنا، یہاں تک کہ میں تیرے لیے اس کا کچھ ذکر شروع کروں۔ En
(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں
En
اس نے کہا اچھا اگر آپ میرے ساتھ ہی چلنے پر اصرار کرتے ہیں تو یاد رہے کسی چیز کی نسبت مجھ سے کچھ نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود اس کی نسبت کوئی تذکره نہ کروں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 69 میں تا آیت 71 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

70۔ (خضر نے) کہا: اچھا اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو پھر مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں تا آنکہ میں خود ہی آپ سے اس کا ذکر کر دوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس وقت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْـَٔلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ قال له الخضر: {فإنِ اتَّبَعْتَني فلا تَسْألْني عن شيءٍ حتَّى أحدِثَ لك منه ذِكْراً}؛ أي: لا تبتدئني بسؤال منك وإنكارٍ حتى أكون أنا الذي أخبرك بحالِهِ في الوقت الذي ينبغي إخبارُك به، فنهاه عن سؤالِهِ، ووعَدَه أن يوقفه على حقيقة الأمر.