تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 69

قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا ﴿۶۹﴾
اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو توُ مجھے ضرور صبر کرنے والا پائے گا اور میں تیرے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ En
(موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا
En
موسیٰ نے جواب دیا کہ انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے واﻻ پائیں گے اور کسی بات میں، میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰ علیہ السلام اس پر صبر نہ کر سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال موسى: {سَتَجِدُني إن شاء اللهُ صابراً ولا أعصي لك أمراً}: وهذا عزمٌ منه قبل أن يوجد الشيء الممتَحَن به، والعزمُ شيء ووجودُ الصبر شيء آخر؛ فلذلك ما صَبَرَ موسى عليه السلام حين وقع الأمر.