تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِیْۤاِنْشَآءَاللّٰهُصَابِرًاوَّلَاۤاَعْصِیْلَكَاَمْرًا ﴾”اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔“ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰ علیہ السلام اس پر صبر نہ کر سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال موسى: {سَتَجِدُني إن شاء اللهُ صابراً ولا أعصي لك أمراً}: وهذا عزمٌ منه قبل أن يوجد الشيء الممتَحَن به، والعزمُ شيء ووجودُ الصبر شيء آخر؛ فلذلك ما صَبَرَ موسى عليه السلام حين وقع الأمر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔