تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 71

فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا ﴿۷۱﴾
سو دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے اسے پھاڑ دیا۔ کہا کیا تو نے اسے اس لیے پھاڑ دیا ہے کہ اس کے سواروں کو غرق کر دے، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت بڑے کام کو آیا ہے۔ En
تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی
En
پھر وه دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے، تو اس نے کشتی کے تختے توڑ دیئے، موسیٰ نے کہا کیا آپ اسے توڑ رہے ہیں تاکہ کشتی والوں کو ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑی (خطرناک) بات کردی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا یعنی حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰ علیہ السلام اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضر علیہ السلام نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْـًٔؔا اِمْرًا کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰ علیہ السلام کا عدم صبر تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فانطلقا حتى إذا رَكِبا في السفينةِ خَرَقَها}؛ أي: اقتلع الخضِرُ منها لوحاً، وكان له مقصودٌ في ذلك سيبيِّنه، فلم يصبرْ موسى عليه السلام؛ لأنَّ ظاهره أنه منكرٌ؛ لأنَّه عَيْبٌ للسفينة وسببٌ لغرق أهلها، ولهذا قال موسى: {أخَرَقْتَها لِتُغْرِقَ أهلها لقد جئتَ شيئاً إمْراً}؛ أي: عظيماً شنيعاً، وهذا من عدم صبره عليه السلام.