تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 68

وَ کَیۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰی مَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ خُبۡرًا ﴿۶۸﴾
اور تو اس پر کیسے صبر کرے گا جسے تو نے پوری طرح علم میں نہیں لیا۔ En
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو
En
اور جس چیز کو آپ نے اپنے علم میں نہ لیا ہو اس پر صبر بھی کیسے کر سکتے ہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں خضر علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ وَؔكَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں۔ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {وكيفَ تصبر على ما لم تُحِطْ به خُبْراً}؛ أي: كيف تصبر على أمرٍ ما أحطتَ بباطنه وظاهره وعلمتَ المقصودَ منه ومآله.