ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكهف (18) — آیت 68

وَ کَیۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰی مَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ خُبۡرًا ﴿۶۸﴾
اور تو اس پر کیسے صبر کرے گا جسے تو نے پوری طرح علم میں نہیں لیا۔ En
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو
En
اور جس چیز کو آپ نے اپنے علم میں نہ لیا ہو اس پر صبر بھی کیسے کر سکتے ہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 67 میں تا آیت 69 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

68۔ 1 یعنی جس کا پورا علم نہ ہو

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ اور جس واقعہ کی حقیقت کا آپ کو علم نہ ہو اس پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں خضر علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ وَؔكَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں۔ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {وكيفَ تصبر على ما لم تُحِطْ به خُبْراً}؛ أي: كيف تصبر على أمرٍ ما أحطتَ بباطنه وظاهره وعلمتَ المقصودَ منه ومآله.