تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 67

قَالَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۶۷﴾
اس نے کہا بے شک تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکے گا۔ En
(خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے
En
اس نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَ٘نْ تَ٘سْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال الخضر لموسى: لا أمتنع من ذلك، ولكنَّك {لَنْ تَسْتطيعَ معيَ صبراً}؛ أي: لا تقدر على اتِّباعي وملازمتي؛ لأنَّك ترى ما لا تقدر على الصبر عليه من الأمور، التي ظاهرها المنكَر وباطنها غيرُ ذلك.