اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ جنوں میں سے تھا، سو اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، تو کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بناتے ہو، حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں، وہ (شیطان) ظالموں کے لیے بطور بدل برا ہے۔
En
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجده کیا، یہ جنوں میں سے تھا، اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی، کیا پھر بھی تم اسے اور اس کی اوﻻد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حاﻻنکہ وه تم سب کا دشمن ہے۔ ایسے ﻇالموں کا کیا ہی برا بدل ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آدم علیہ السلام اوران کی اولاد کے ساتھ ابلیس کی عداوت کا ذکر کرتا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی تعظیم و تکریم اور اپنے حکم کی تعمیل کے لیے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ پس انھوں نے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿اِلَّاۤاِبْلِیْسَ١ؕكَانَمِنَالْ٘جِنِّفَفَسَقَعَنْاَمْرِرَبِّهٖ﴾”سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی“ اور کہنے لگا ﴿ ءَاَسْجُدُلِمَنْخَلَقْتَطِیْنًا﴾ (بنی اسرائیل:17؍61) ”کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پید کیا۔“ اور کہا: ﴿ اَنَاخَیْرٌمِّؔنْهُ ﴾ (الاعراف:7؍12) ”میں اس سے بہتر ہوں۔“ اس سے واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور تمھارے جدامجد سے عداوت رکھتا ہے، پھر کیسے تم اس کو اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہو؟ ﴿ بِئْ٘سَلِلظّٰلِمِیْنَبَدَلًا ﴾”برا ہے ظالموں کے لیے بدلہ“ یعنی کتنی بری ہے شیطان کی دوستی اور سرپرستی جو انھوں نے اپنے لیے چنی ہے، جو انھیں صرف فحش اور برے کاموں کا حکم دیتا ہے اور رب رحمن کی دوستی اور سرپرستی چھوڑ دی جس کی دوستی میں ہر قسم کی سعادت، فلاح اور سرور ہے۔
اس آیت کریمہ میں پرزور ترغیب ہے کہ شیطان کو دشمن سمجھا جائے اور وہ سبب بھی بیان کر دیا گیا جو اس کو دشمن قرار دینے کا موجب ہے، نیز یہ بھی واضح کر دیا کہ صرف ظالم شخص ہی اس کو اپنا دوست قرار دیتا ہے اور اس شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہو سکتا ہے جو اپنے حقیقی دشمن کو دوست سمجھے اور اپنے حقیقی اور قابل تعریف دوست کو چھوڑ دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اَللّٰهُوَلِیُّالَّذِیْنَاٰمَنُوْا١ۙیُخْرِجُهُمْمِّنَالظُّلُمٰؔتِاِلَىالنُّوْرِ١ؕ۬وَالَّذِیْنَكَفَرُوْۤااَوْلِیٰٓؔــُٔـهُمُ۠الطَّاغُ٘وْتُ١ۙیُخْرِجُوْنَهُمْ۠مِّنَالنُّوْرِاِلَىالظُّلُمٰؔتِ﴾ (البقرۃ:2؍257) ”اللہ ان لوگوں کا دوست اور مددگار ہے جو ایمان لائے، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور وہ لوگ جو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے والی اور مددگار طاغوت ہیں جو ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّهُمُاتَّؔخَذُواالشَّیٰطِیْنَاَوْلِیَآءَؔمِنْدُوْنِاللّٰهِ ﴾ (الاعراف:7؍30) ”انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو دوست اور سرپرست بنا لیا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عداوة إبليس لآدم وذُرِّيَّته، وأنَّ الله أمر الملائكة بالسجودِ لآدم إكراماً وتعظيماً وامتثالاً لأمر الله، فامتثلوا ذلك؛ {إلاَّ إبليس كان من الجِنِّ فَفَسَقَ عن أمرِ ربِّه}، وقال: {أأسجدُ لمن خَلَقْتَه طيناً}. وقال: {أنا خيرٌ منه}،، فتبيَّن بهذا عداوته لله ولأبيكم؛ فكيف تتَّخذونه {وذُرِّيَّته}؛ أي: الشياطين {أولياء من دوني وهم لكم عدُوٌّ بئس للظالمينَ بدلاً}؛ أي: بئس ما اختاروا لأنفسهم من ولاية الشيطان الذي لا يأمرهم إلاَّ بالفحشاء والمنكر عن ولاية الرحمن الذي كلُّ السعادة والفلاح والسرور في ولايته. وفي هذه الآية الحثُّ على اتِّخاذ الشيطان عدوًّا والإغراء بذلك وذِكْرُ السبب الموجب لذلك، وأنَّه لا يفعل ذلك إلاَّ ظالمٌ، وأيُّ ظلم أعظم من ظلم من اتَّخذ عدوَّه الحقيقي وليًّا وترك الوليَّ الحميد؟! قال تعالى: {اللهُ وليُّ الذين آمنوا يُخْرِجُهُم من الظُّلماتِ إلى النُّورِ والذين كَفَروا أولياؤُهُم الطَّاغوتُ يُخْرِجونَهم من النُّورِ إلى الظُّلُماتِ}، وقال تعالى: {إنَّهم اتَّخذوا الشياطين أولياءَ مِنْ دونِ الله}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔