تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 49

وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا ۚ وَ وَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ؕ وَ لَا یَظۡلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ﴿٪۴۹﴾
اور کتاب رکھی جائے گی، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہوگا اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی! اس کتاب کو کیا ہے، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے ضبط کر رکھا ہے، اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیںگے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ En
اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا
En
اور نامہٴ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا کہ گنہگار اس کی تحریر سے خوفزده ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ﻇلم وستم نہ کرے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس وقت وہ ا عمال نامے حاضر كيے جائیں گے جن کو کراماً کاتبین لکھا کرتے تھے۔ ان کو دیکھ کر دل اڑنے لگیں گے ان کے وقوع سے غم اور مشقتیں بڑھ جائیں گی۔ جن کو دیکھ کر ٹھوس اور سخت چٹانیں بھی پگھل جائیں گی اور مجرم ڈریں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان اعمال ناموں میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور ان کے تمام اقوال و افعال ان اعمال ناموں میں محفوظ ہیں تو بول اٹھیں گے: ﴿یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُؔ صَغِیْرَةً وَّلَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا ہائے افسوس! کیسی ہے یہ کتاب، نہیں چھوڑا اس نے چھوٹی بات کو نہ بڑی بات کو مگر اس نے ان کو شمار کر لیا۔ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں جو اس میں لکھا ہوا اور محفوظ نہ ہو اور کوئی کھلا یا چھپا، رات کے وقت کیا ہوا یا دن کے وقت کیا ہوا گناہ ایسا نہیں جو بھولے سے لکھنے سے رہ گیا ہو۔
﴿ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا اور پائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا، سامنے۔ وہ اس کا انکار نہیں کر سکیں گے ﴿ وَلَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اس وقت ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی، وہ ان اعمال کا اقرار کریں گے، ان اعمال کی بنا پر رسوا ہوں گے اور ان پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ لَ٘یْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (آل عمران:3؍182، الانفال:8؍51) یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و عدل سے باہر نہیں نکلیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ تُحْضَرُ كتب الأعمال التي كتبها الملائكة الأبرار ، فتطير لها القلوبُ، وتَعْظُم من وقعها الكروبُ، وتكاد لها الصمُّ الصلاب تذوبُ، ويشفق منها المجرمون؛ فإذا رأوها مسطرةً عليهم أعمالهم محصى عليهم أقوالهم وأفعالهم؛ قالوا: {يا وَيْلَتَنا مالِ هذا الكتابِ لا يغادِرُ صغيرةً ولا كبيرةً إلاَّ أحصاها}؛ أي: لا يترك خطيئة صغيرة ولا كبيرة إلاَّ وهي مكتوبةٌ فيه محفوظة لم ينس منها عملُ سرٍّ ولا علانية ولا ليل ولا نهار. {ووجدوا ما عَمِلوا حاضراً}: لا يقدرون على إنكارِهِ، {ولا يظلم ربُّك أحداً}: فحينئذٍ يجازَوْن بها ويُقَرَّرون بها ويُخْزَون ويحقُّ عليهم العذاب، {ذلك بما قدَّمتْ أيديهم وأنَّ الله ليس بظلاَّم للعبيدٍ}: بل هم غيرُ خارجين عن عدلِهِ وفضلِهِ.