تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ: ” فَفَسَقَ “} میں فاء تعلیل یعنی وجہ بیان کرنے کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں: {”سَرَقَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ“} ”اس نے چوری کی، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔“ یعنی شیطان جنوں میں سے تھا، اس لیے اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ اگر فرشتوں سے ہوتا تو کبھی نافرمانی نہ کرتا، کیونکہ فرشتے نہ اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ اس کے حکم کے بغیر کوئی کام کرتے ہیں۔ دیکھیے انبیاء (۲۶ تا ۲۸) اور تحریم (۶) معلوم ہوا کہ ابلیس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اصل میں فرشتہ تھا، نام اس کا عزازیل تھا، یا جن تھا مگر کثرت عبادت کی وجہ سے فرشتوں کا استاد بن گیا، بالکل بے اصل بات ہے۔ رہا یہ سوال کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو تھا، جنوں کو تھا ہی نہیں تو اس کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۱۲) اور سورۂ بقرہ (۳۴) کی تفسیر۔
➌ { اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّيَّتَهٗۤ …:} اس سے معلوم ہوا کہ ابلیس کی اولاد ہے، مگر ان کی نسل کیسے بڑھی اور کیسے بڑھتی ہے اس کے متعلق صحیح ذریعے سے ہمارے پاس کوئی علم نہیں۔
➍ {بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا: ” بِئْسَ “} کا فاعل {”هُوَ“} ضمیر ہے، جو ابلیس کی طرف لوٹتی ہے، یعنی اللہ کے بدلے میں ابلیس کو دوست بنایا تو تم نے بہت برا بدل حاصل کیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[48] اعتقاداً یا زبانی طور پر تو کوئی بھی شیطان کو اپنا دوست یا مطاع یا سرپرست کہنے کو تیار نہیں ہوتا بلکہ سب اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں۔ مگر عملاً جب انسان اللہ کی بتائی ہوئی راہ کے علی الرغم دوسری راہیں اختیار کرتا اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے تو یہ عملاً شیطان ہی کی پیروی ہوتی ہے کیونکہ نافرمانی اور سرکشی کی روش اسی نے اختیار کی تھی۔
[49] یہاں ظالموں سے مراد شیطان یا ابلیس کے مطیع فرمان اور اس کے چیلے چانٹے ہیں اور اس جملہ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کو چاہیے تو یہ تھا کہ اپنے پروردگار کی اطاعت کرتے مگر ان ظالموں نے ان کے عوض اپنے ازلی دشمن کی پیروی کی روش اختیار کی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان ظالموں کو بہت برا بدلہ ملنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس متکبر شخص سے توبہ کی امید نہیں ہو سکتی۔ ہاں تکبر نہ ہو اور کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس سے ناامید نہ ہونا چاہیئے۔ کہتے ہیں کہ یہ تو جنت کے اندر کام کاج کرنے والوں میں تھا۔ سلف کے اور بھی اس بارے میں بہت سے آثار مروی ہیں، لیکن یہ اکثر و بیشتر بنی اسرائیلی ہیں، صرف اس لیے نقل کئے گئے ہیں کہ نگاہ سے گزر جائیں۔ اللہ ہی کو ان کے اکثر کا صحیح حال معلوم ہے۔ ہاں بنی اسرائیل کی وہ روایتیں تو قطعا قابل تردید ہیں جو ہمارے ہاں کے دلائل کے خلاف ہوں۔
الغرض ابلیس اطاعت الٰہی سے نکل گیا۔ پس تمہیں چاہیئے کہ اپنے دشمن سے دوستی نہ کرو اور مجھے چھوڑ کر اس سے تعلق نہ جوڑو۔ ظالموں کو بڑا برا بدلہ ملے گا۔ یہ مقام بھی بالکل ایسا ہی ہے جیسے سورۃ یاسین میں قیامت کا، اس کی ہولناکیوں کا اور نیک و بد لوگوں کے نتیجوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ اے مجرمو! تم آج کے دن الگ ہو جاؤ۔ الخ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عداوة إبليس لآدم وذُرِّيَّته، وأنَّ الله أمر الملائكة بالسجودِ لآدم إكراماً وتعظيماً وامتثالاً لأمر الله، فامتثلوا ذلك؛ {إلاَّ إبليس كان من الجِنِّ فَفَسَقَ عن أمرِ ربِّه}، وقال: {أأسجدُ لمن خَلَقْتَه طيناً}. وقال: {أنا خيرٌ منه}،، فتبيَّن بهذا عداوته لله ولأبيكم؛ فكيف تتَّخذونه {وذُرِّيَّته}؛ أي: الشياطين {أولياء من دوني وهم لكم عدُوٌّ بئس للظالمينَ بدلاً}؛ أي: بئس ما اختاروا لأنفسهم من ولاية الشيطان الذي لا يأمرهم إلاَّ بالفحشاء والمنكر عن ولاية الرحمن الذي كلُّ السعادة والفلاح والسرور في ولايته. وفي هذه الآية الحثُّ على اتِّخاذ الشيطان عدوًّا والإغراء بذلك وذِكْرُ السبب الموجب لذلك، وأنَّه لا يفعل ذلك إلاَّ ظالمٌ، وأيُّ ظلم أعظم من ظلم من اتَّخذ عدوَّه الحقيقي وليًّا وترك الوليَّ الحميد؟! قال تعالى: {اللهُ وليُّ الذين آمنوا يُخْرِجُهُم من الظُّلماتِ إلى النُّورِ والذين كَفَروا أولياؤُهُم الطَّاغوتُ يُخْرِجونَهم من النُّورِ إلى الظُّلُماتِ}، وقال تعالى: {إنَّهم اتَّخذوا الشياطين أولياءَ مِنْ دونِ الله}.