میں نے انھیں نہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں حاضر کیا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے میں اور نہ ہی میں گمراہ کرنے والوں کو بازو بنانے والا تھا۔
En
میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا
میں نے انہیں آسمانوں وزمین کی پیدائش کے وقت موجود نہیں رکھا تھا اور نہ خود ان کی اپنی پیدائش میں، اور میں گمراه کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے واﻻ بھی نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں نے شیاطین (اور ان گمراہی پھیلانے والوں) کو گواہ نہیں بنایا“﴿ خَلْ٘قَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَلَاخَلْقَاَنْفُسِهِمْ﴾”آسمانوں، زمین اور ان کی اپنی تخلیق پر۔“ یعنی میں نے ان کی پیدائش پر ان کو حاضر کیا نہ ان سے مشورہ لیا، پھر وہ ان میں سے کسی چیز کے خالق کیسے کہلا سکتے ہیں؟ بلکہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر اور حکمت و تقدیر میں یکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام اشیاء کا خالق ہے اور وہی اپنی حکمت سے ان میں تصرف کرتا ہے پس کیسے شیاطین کو اللہ کے شریک ٹھہرایا جاتا ہے ان کو والی و مددگار بنایا جاتا ہے اور ان کی اسی طرح اطاعت کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے، حالانکہ انھوں نے کچھ پیدا کیا ہے نہ کائنات کی پیدائش پر وہ حاضر تھے اور نہ کائنات کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ کے معاون و مددگار تھے؟ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاكُنْتُمُتَّؔخِذَالْمُضِلِّ٘یْ٘نَعَضُدًا﴾”اور نہیں ہوں میں کہ گمراہ کرنے والوں کو مدد گار بناؤں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی کام میں معاونین کا ہونا، اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں اور نہ یہ مناسب ہے کہ وہ تدبیر کائنات کا کچھ حصہ ان کے سپرد کر دے کیونکہ وہ تو مخلوق کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے رب کی عداوت پر کمربستہ رہتے ہیں، اس لیے وہ اسی لائق ہیں کہ وہ ان کو دور رکھے اوراپنے قریب نہ آنے دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: ما أشهدتُ الشياطين وهؤلاء المضلِّين خَلْقَ السماواتِ والأرض ولا خَلْقَ أنفسِهِم؛ أي: ما أحضرتهم ذلك ولا شاورتهم عليه؛ فكيف يكونون خالقين لشيء من ذلك، بل المتفرِّد بالخلق والتدبير والحكمة والتقدير هو الله، خالقُ الأشياء كلِّها، المتصرِّف فيها بحكمته؛ فكيف يُجعلُ له شركاءُ من الشياطين يوالَوْن ويُطاعون كما يُطاع الله وهم لم يخلُقوا ولم يشهدوا خلقاً ولم يعاونوا الله تعالى، ولهذا قال: {وما كُنْتُ مُتَّخِذَ المُضِلِّين عَضُداً}؛ أي: معاونين مظاهرين لله على شأن من الشؤون؛ أي: ما ينبغي ولا يليق بالله أن يجعل لهم قسطاً من التَّدبير؛ لأنهم ساعون في إضلال الخلق والعداوة لربهم؛ فاللائقُ أن يُقْصِيَهم ولا يُدنيهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔