تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 100

وَّ عَرَضۡنَا جَہَنَّمَ یَوۡمَئِذٍ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ عَرۡضَۨا ﴿۱۰۰﴾ۙ
اور اس دن ہم جہنم کو کافروں کے عین سامنے پیش کریں گے۔ En
اور اُس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے
En
اس دن ہم جہنم کو (بھی) کافروں کے سامنے ﻻکھڑا کر دیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَىِٕذٍ لِّ٘لْ٘كٰفِرِیْنَ عَرْضًا اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَ (الشعراء:26؍91) اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأما الكافرون على اختلافهم؛ فإنَّ جهنم جزاؤهم خالدين فيها أبداً، ولهذا قال: {وعَرَضْنا جهنَّم يومئذٍ للكافرينَ عرضاً}؛ كما قال تعالى: {وإذا الجحيمُ سعرت}؛ أي: عُرِضَتْ لهم لتكون مأواهم ومنزلهم، وليتمتَّعوا بأغلالها وسعيرها وحميمها وزمهريرها، وليذوقوا من العقاب ما تبكم له القلوبُ، وتصمُّ الآذان.