تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتْاَعْیُنُهُمْفِیْغِطَآءٍعَنْذِكْرِیْ ﴾”ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے“ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوْبُنَافِیْۤاَكِنَّةٍمِّؔمَّاتَدْعُوْنَاۤاِلَیْهِ ﴾ (حمٓ السجدۃ:41؍5) ”جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں۔“ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤىاَبْصَارِهِمْغِشَاوَةٌ ﴾ (البقرۃ:2؍7) ”اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔“﴿ وَؔكَانُوْالَایَسْتَطِیْعُوْنَ۠سَمْعًا ﴾”اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں، قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا آثار أعمالهم وجزاء أفعالهم؛ فإنَّهم في الدُّنيا كانت أعينُهم في غطاءٍ عن ذكر الله؛ أي: معرضين عن الذكر الحكيم والقرآن الكريم، {وقالوا قلوبُنا في أكِنَّةٍ مما تَدْعونا إليه}، وفي أعينهم أغطيةٌ تمنعهم من رؤية آيات الله النافعة؛ كما قال تعالى: {وعلى أبصارِهم غِشاوةٌ}. {وكانوا لا يستطيعونَ سمعاً}؛ أي: لا يقدرون على سمع آيات الله، الموصلة إلى الإيمان؛ لبغضهم القرآن والرسول؛ فإنَّ المبغِضَ لا يستطيع أن يلقي سمعه إلى كلام من أبغضه؛ فإذا انحجبتْ عنهم طرقُ العلم والخير؛ فليس لهم سمعٌ ولا بصرٌ ولا عقلٌ نافعٌ؛ فقد كفروا بالله، وجحدوا آياته، وكذَّبوا رسله، فاستحقُّوا جهنَّم، وساءت مصيراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔