تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 99

وَ تَرَکۡنَا بَعۡضَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ یَّمُوۡجُ فِیۡ بَعۡضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا ﴿ۙ۹۹﴾
اور اس دن ہم ان کے بعض کو چھوڑیں گے کہ بعض میں ریلا مارتے ہوں گے اور صور میں پھونکا جائے گا تو ہم ان کو جمع کریں گے، پوری طرح جمع کرنا۔ En
(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے
En
اس دن ہم انہیں آپس میں ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے اور صور پھونک دیا جائے گا پس سب کو اکٹھا کرکے ہم جمع کر لیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَتَرَؔكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَىِٕذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَ٘اْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُ٘لِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ (الانبیاء:21؍96) یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ: ﴿ وَّنُ٘فِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ وَّعَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَىِٕذٍ لِّ٘لْ٘كٰفِرِیْنَ عَرْضَا ِ۟ ۰۰الَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَؔكَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ سَمْعًا
یعنی جب اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يحتمل أنَّ الضمير يعودُ إلى يأجوج ومأجوج، وأنَّهم إذا خرجوا على الناس من كثرتهم واستيعابهم للأرض كلِّها يموجُ بعضُهم ببعضٍ؛ كما قال تعالى: {حتَّى إذا فُتِحَتْ يأجوجُ ومأجوجُ وهم من كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلونَ}، ويُحتمل أن الضمير يعود إلى الخلائق يوم القيامة، وأنَّهم يجتمعون فيه، فيكثرون، ويموجُ بعضهم ببعض من الأهوال والزلازل العظام؛ بدليل قوله:

أي: إذا نفخ إسرافيل في الصور؛ أعاد الله الأرواح إلى الأجساد، ثمَّ حَشَرَهم وجمعهم لموقف القيامة، الأوَّلين منهم والآخرين، والكافرين والمؤمنين؛ ليُسألوا، ويُحاسبوا، ويُجزون بأعمالهم.