(آیت 100){ وَعَرَضْنَاجَهَنَّمَ …:} یہ پیش کرنا بھی عذاب سے پہلے عذاب ہو گا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۵۳) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
100۔ اس دن ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لے آئیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جہنم کو دیکھ کر ٭٭
کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَنيَعْشُعَنذِكْرِالرَّحْمَـٰنِنُقَيِّضْلَهُشَيْطَانًافَهُوَلَهُقَرِينٌ»[43-الزخرف: 36] نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضْنَاجَهَنَّمَیَوْمَىِٕذٍلِّ٘لْ٘كٰفِرِیْنَعَرْضًا﴾”اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِالْجَحِیْمُلِلْغٰوِیْنَ ﴾ (الشعراء:26؍91) ”اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔“ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأما الكافرون على اختلافهم؛ فإنَّ جهنم جزاؤهم خالدين فيها أبداً، ولهذا قال: {وعَرَضْنا جهنَّم يومئذٍ للكافرينَ عرضاً}؛ كما قال تعالى: {وإذا الجحيمُ سعرت}؛ أي: عُرِضَتْ لهم لتكون مأواهم ومنزلهم، وليتمتَّعوا بأغلالها وسعيرها وحميمها وزمهريرها، وليذوقوا من العقاب ما تبكم له القلوبُ، وتصمُّ الآذان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔