تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 53

وَ قُلۡ لِّعِبَادِیۡ یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ یَنۡزَغُ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۵۳﴾
اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ بے شک شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے۔ En
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
En
اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وه بہت ہی اچھی بات منھ سے نکالا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بےشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں بہتر اخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقُ٘لْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ کہہ دو، میرے بندوں سے، بات وہی کہیں جو اچھی ہو۔ یہ ہر اس کلام کے بارے میں حکم ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے، مثلاً: قراء ت قرآن، ذکر الٰہی، حصول علم، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت شیریں کلامی وغیرہ۔ اگر دو اچھے امور در پیش ہوں اور ان دونوں میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو ان میں جو بہتر ہو اس کو ترجیح دی جائے اور اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے، اس لیے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں۔ ﴿ اِنَّ الشَّ٘یْطٰ٘نَ یَنْ٘زَغُ بَیْنَهُمْ بے شک شیطان ان کے درمیان جھڑپ کرواتا ہے یعنی شیطان بندوں کے دین و دنیا کو خراب کر کے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے اور اس فساد کی دوا یہ ہے کہ وہ بری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں جن کی طرف شیطان دعوت دیتا رہتا ہے اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے، اس لیے کہ شیطان ان کا حقیقی دشمن ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ شیطان کے خلاف مصروف جنگ رہیں، اس لیے کہ وہ تو انھیں دعوت دیتا رہتا ہے ﴿ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰؔبِ السَّعِیْرِ تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔ اگرچہ شیطان ان کے درمیان فساد اور عداوت ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن اس بارے میں کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ اپنے دشمن شیطان کی مخالفت کی جائے، نفس امارہ کا قلع قمع کیا جائے جس کے راستے سے شیطان داخل ہوتا ہے، اس طرح وہ اپنے رب کی اطاعت کر سکیں گے، ان کا معاملہ درست رہے گا اور راہ ہدایت پا لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من لطفِهِ بعباده؛ حيثُ أمرهم بأحسن الأخلاق والأعمال والأقوال الموجبة للسعادة في الدُّنيا والآخرة، فقال: {وقُلْ لعبادي يقولوا التي هي أحسنُ}: وهذا أمرٌ بكلِّ كلام يقرِّب إلى الله؛ من قراءةٍ وذكرٍ وعلم وأمرٍ بمعروف ونهي عن منكرٍ وكلام حسنٍ لطيفٍ مع الخلق على اختلاف مراتبهم ومنازلهم، وأنه إذا دار الأمر بين أمرين حسنين؛ فإنَّه يؤمَر بإيثار أحسَنِهما إن لم يمكن الجمعُ بينَهما، والقول الحسنُ داعٍ لكلِّ خلقٍ جميل وعمل صالح؛ فإنَّ مَن مَلَكَ لسانه؛ مَلَكَ جميع أمره. وقوله: {إنَّ الشيطانَ يَنْزَغُ بينهم}؛ أي: يسعى بين العباد بما يُفْسِدُ عليهم دينهم ودنياهم؛ فدواءُ هذا أن لا يُطيعوه في الأقوال غير الحسنة التي يدعوهم إليها، وأن يَلينوا فيما بينَهم؛ لينقمعَ الشيطانُ الذي ينزغ بينهم؛ فإنَّه عدوُّهم الحقيقيُّ الذي ينبغي لهم أن يحاربوه؛ فإنَّه يدعوهم ليكونوا من أصحاب السعير، وأما إخوانهم؛ فإنَّهم وإنْ نزغ الشيطان فيما بينهم وسعى في العداوة؛ فإنَّ الحزم كلَّ الحزم السعيُ في ضدِّ عدوِّهم، وأن يَقْمَعوا أنفسهم الأمَّارة بالسوء، التي يدخُل الشيطان من قِبَلِها؛ فبذلك يطيعون ربَّهم، ويستقيم أمرهم، ويُهْدَون لرشدهم.