تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یَوْمَیَدْعُوْؔكُمْ ﴾”جس دن وہ تم کو پکارے گا“ جب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمھیں پکارے گا اور صور پھونکا جائے گا۔ ﴿فَتَسْتَجِیْبُوْنَبِحَمْدِهٖ ﴾”پس تم اس کی خوبی بیان کرتے ہوئے چلے آؤ گے“ یعنی تم اس کے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم اس کی نافرمانی نہیں کر سکو گے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِحَمْدِهٖ ﴾سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل پر قابل ستائش ہے۔ جب وہ اپنے بندوں کو قیامت کے روز اکٹھا کرے گا تو ان کو جزا دے گا۔ ﴿ وَتَظُنُّوْنَاِنْلَّبِثْتُمْاِلَّاقَلِیْلًا﴾”اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے ہو“ یعنی قیامت کے نہایت سرعت کے ساتھ واقع ہونے کی بنا پر اور جو نعمتیں تمھیں حاصل رہی ہیں۔ گویا کہ یہ سب کچھ واقع ہوا ہی نہیں۔ پس وہ لوگ جو قیامت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿مَتٰىهُوَ﴾”قیامت کا دن کب ہو گا؟“ وہ قیامت کے ورود کے وقت بہت نادم ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ هٰؔذَاالَّذِیْكُنْتُمْبِهٖتُكَذِّبُوْنَ﴾ (المطففین: 83؍17) ”یہ وہی دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يوم يدعوكم}: للبعث والنُّشور وينفُخ في الصور، {فتستجيبونَ بحمدِهِ}؛ أي: تنقادون لأمرِهِ ولا تستعصونَ عليه. وقوله: {بحمده}؛ أي: هو المحمود تعالى على فعله، ويجزي به العباد إذا جمعهم ليوم التَّنادِ، {وتظنُّونَ إن لَبِثْتُم إلاَّ قليلاً}: من سرعة وقوعه، وأنَّ الذي مرَّ عليكم من النعيم كأنَّه ما كان؛ فهذا الذي يقول عنه المنكرون: متى هو؟ يندمون غاية الندم عند ورودِهِ، ويُقال لهم: هذا الذي كنتُم به تكذِّبون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔