تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 54

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یَرۡحَمۡکُمۡ اَوۡ اِنۡ یَّشَاۡ یُعَذِّبۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۵۴﴾
تمھارا رب تمھیں زیادہ جاننے والا ہے، اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے، یا اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے اور ہم نے تجھے ان پر کوئی ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ En
تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا
En
تمہارا رب تم سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده جاننے واﻻ ہے، وه اگر چاہے تو تم پر رحم کردے یا اگر وه چاہے تمہیں عذاب دے۔ ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرا کر نہیں بھیجا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْتمھارا رب تمھارے بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہے اس لیے تمھارے لیے وہی چاہتا ہے جس میں تمھاری بھلائی ہے اور تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری کوئی مصلحت ہے بسااوقات تم ایک چیز کا ارادہ کرتے ہو مگر بھلائی اس کے برعکس کسی اور چیز میں ہوتی ہے۔ ﴿ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْؔكُمْ اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے۔ پس جسے چاہتا ہے اسباب رحمت کی توفیق عطا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ پس وہ اسباب رحمت سے محروم ہو کر عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَؔكِیْلًا اور ہم نے آپ کو ان پر ذمے دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کے معاملات کی تدبیر کریں اور ان کو جزا دیں۔ وکیل اور کارساز تو صرف اللہ ہے اور آپ تو صرف صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ربُّكم أعلم بكم}: من أنفسكم؛ فلذلك لا يريد لكم إلاَّ ما هو الخير، ولا يأمركم إلاَّ بما فيه مصلحة لكم، وقد تريدون شيئاً الخيرُ في عكسه. {إن يَشَأْ يَرْحَمْكُم أو إن يَشَأ يُعَذِّبْكم}: فيوفِّق مَن شاء لأسباب الرحمة، ويخذُلُ من شاء فَيَضِلُّ عنها فيستحقُّ العذاب. {وما أرسلناك عليهم وكيلاً}: تُدبِّرُ أمرهم وتقوم بمجازاتهم، وإنَّما الله هو الوكيل، وأنت مبلغٌ هادٍ إلى صراط مستقيم.