اور اللہ نے تمھارے لیے ان چیزوں سے جو اس نے پیدا کیں، سائے بنا دیے اور تمھارے لیے پہاڑوں میں سے چھپنے کی جگہیں بنائیں اور تمھارے لیے کچھ قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ قمیصیں جو تمھیں تمھاری لڑائی میں بچاتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی نعمت تم پر پوری کرتا ہے، تاکہ تم فرماں بردار بن جاؤ۔
En
اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو
اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کرده چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لیے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں۔ وه اسی طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاللّٰهُجَعَلَلَكُمْمِّمَّاخَلَقَ ﴾”اور بنا دیے اللہ نے تمھارے واسطے ان میں سے جن کو پیدا کیا“ یعنی جن میں تمھارے لیے کوئی صنعت نہیں ہے۔ ﴿ظِلٰ٘لًا﴾”سائے“، مثلاً: درختوں پہاڑوں اور ٹیلوں کے سائے۔ ﴿ وَّجَعَلَلَكُمْمِّنَالْجِبَالِاَكْنَانًا ﴾”اور بنا دیں تمھارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ“ یعنی غار اور کھوہ بنائے جہاں تم گرمی، سردی، بارش اور اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے پناہ لیتے ہو ﴿ وَّجَعَلَلَكُمْسَرَابِیْلَ ﴾”اور بنا دیے تمھارے لیے کرتے“ یعنی لباس اور کپڑے ﴿ تَقِیْكُمُالْحَرَّ ﴾”وہ تمھیں گرمی سے بچاتے ہیں “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سردی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ کی ابتداء میں اصولی نعمتوں کا ذکر ہے اور اس کے آخر میں ان امور کا ذکر ہے جو ان نعمتوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ سردی سے بچاؤ ایک بنیادی نعمت اور ضرورت ہے اللہ تعالیٰ نے سورت کی ابتداء میں اس کا ان لفاظ میں ذکر فرمایا ہے:﴿ لَكُمْفِیْهَادِفْءٌوَّمَنَافِعُ ﴾ (النحل: 16؍5) ”جن میں تمھارے لیے جاڑے کا سامان ہے اور فائدے ہیں “﴿ وَسَرَابِیْلَتَقِیْكُمْبَ٘اْسَكُمْ﴾”اور کرتے جو تمھیں لڑائی سے محفوظ رکھیں۔“ یعنی وہ لباس جو جنگ اور لڑائی کے وقت تمھیں ہتھیاروں کی زد سے بچاتے ہیں، مثلاً: زرہ، بکتر وغیرہ۔ ﴿ كَذٰلِكَیُتِمُّنِعْمَتَهٗ﴾”اسی طرح پوری کرتا ہے وہ اپنی نعمت“ اس نے تمھیں لامحدود نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شمار ممکن نہیں۔ ﴿ لَعَلَّكُمْ ﴾”تاکہ تم“ جب اللہ کی نعمت کو یاد کرو اور دیکھو کہ اس نعمت نے تمھیں ہر لحاظ سے ڈھانپ رکھا ہے۔ ﴿ تُ٘سْلِمُوْنَ ﴾”فرماں بردار بن جاؤ“ تب شاید تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرو اور اس کے حکم کی تعمیل کرو اور اس نعمت کو تم اس کے والی اور عطا کرنے والے کی اطاعت میں صرف کرو۔ پس نعمتوں کی کثرت بندوں کی طرف سے ایسے اسباب کی باعث بنتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی حمدوثنا میں اضافے کا موجب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واللهُ جَعَلَ لكم مما خَلَقَ}؛ أي: من مخلوقاته التي لا صنعةَ لكم فيها، {ظلالاً}: وذلك كأظِلَّة الأشجار والجبال والآكام ونحوِهِا. {وجعل لكُم من الجبال أكناناً}؛ أي: مغارات تُكِنُّكم من الحرِّ والبرد والأمطار والأعداء. {وجَعَلَ لكم سرابيلَ}؛ أي: ألبسة وثياباً، {تقيكُمُ الحرَّ}: ولم يذكُرِ الله البردَ؛ لأنَّه قد تقدَّم أنَّ هذه السورة أولها في أصول النعم وآخرها في مكمِّلاتها ومتمِّماتها، ووقاية البرد من أصول النِّعم؛ فإنَّه من الضرورة وقد ذكره في أولها في قوله: {لكُم فيها دِفْءٌ ومنافعُ}. و {تقيكُم بأسَكُم}؛ أي: وثياباً تَقيكم وقت البأس والحرب من السلاح، وذلك كالدُّروع والزُّرود ونحوها. {كذلك يُتِمُّ نعمتَه عليكم}: حيث أسبغَ عليكم من نعمِهِ ما لا يدخُلُ تحت الحصر. {لعلَّكم}: إذا ذكرتُم نعمة الله ورأيتموها غامرةً لكم من كلِّ وجه؛ {تُسْلِمونَ}: لعظمتِهِ وتنقادون لأمرِهِ وتصرفونها في طاعة مُوليها ومُسْديها؛ فكثرةُ النعم من الأسباب الجالبة من العباد مزيدَ الشُّكر والثناء بها على الله تعالى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔