تمھارے گھروں سے رہنے کی جگہ بنا دی اور تمھارے لیے چوپائوں کی کھالوں سے ایسے گھر بنائے جنھیں تم اپنے کوچ کے دن اور اپنے قیام کے دن ہلکا پھلکا پاتے ہو اور ان کی اونوں سے اور ان کی پشموں سے اور ان کے بالوں سے گھر کا سامان اور ایک وقت تک فائدہ اٹھانے کی چیزیں بنائیں۔
En
اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)
اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں میں سکونت کی جگہ بنا دی ہے اور اسی نے تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں کے گھر بنا دیے ہیں، جنہیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن بھی، اور ان کی اون اور روؤں اور بالوں سے بھی اس نے بہت سے سامان اور ایک وقت مقرره تک کے لیے فائده کی چیزیں بنائیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ان سے ان نعمتوں کے اعتراف اور ان پر شکر کا مطالبہ کرتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاللّٰهُجَعَلَلَكُمْمِّنْۢبُیُوْتِكُمْسَكَنًا ﴾”اور اللہ ہی نے تمھارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے گھر اور بڑے بڑے محل بنائے جو تمھیں گرمی اور سردی سے بچاتے ہیں، تمھیں، تمھاری اولاد اور تمھارے مال و متاع کو ٹھکانا مہیا کرتے ہیں۔ تم ان گھروں میں، اپنے مختلف اقسام کے فوائد اور مصالح کے لیے کمرے اور بالا خانے بناتے ہو۔ ان گھروں میں تمھارے مال و متاع اور تمھاری عزت و ناموس کی حفاظت ہے اور اس قسم کے دیگر فوائد جن کا روز مشاہدہ ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَعَلَلَكُمْمِّنْجُلُوْدِالْاَنْعَامِ ﴾”اور بنا دیے تمھارے لیے چو پاؤں کی کھالوں سے“ یعنی یا تو خود ان چوپایوں کی کھال سے یا اس کھال پر اگنے والے بالوں اور اون سے ﴿ بُیُوْتًاتَسْتَخِفُّوْنَهَا ﴾”ڈیرے، جو ہلکے رہتے ہیں تم پر“ یعنی جن کے بوجھ کو اٹھانا تمھارے لیے بہت آسان ہوتا ہے ﴿ یَوْمَظَعْنِكُمْوَیَوْمَاِقَامَتِكُمْ﴾”سفر اور حضر میں۔“ یعنی وہ سفر اور ان منزلوں میں تمھارے ساتھ ہوتے ہیں جہاں گھر بنانا تمھارا مقصد نہیں ہوتا۔ پس یہ خیمے تمھیں گرمی، سردی اور بارش سے بچاتے ہیں اور تمھارے مال و متاع کو بھی بارشوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
﴿ وَ ﴾”اور“ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے بنائے ﴿ مِنْاَصْوَافِهَا ﴾”ان کی اون سے۔“ یعنی ان چوپایوں کی پشم سے ﴿ وَاَوْبَ٘ارِهَاوَاَشْعَارِهَاۤاَثَاثًا ﴾”اور اونٹوں کی پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب“ (اثاث) کا لفظ برتنوں، خرجیوں، بچھونوں، لباس اور اوپر اوڑھنے والے کپڑوں وغیرہ سب کو شامل ہے ﴿ وَّمَتَاعًااِلٰىحِیْنٍ ﴾”اور استعمال کی چیزیں ایک وقت مقرر تک“ یعنی ان چیزوں کو اس دنیا میں استعمال کرتے ہو اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔ پس یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کی صنعت و حرفت کے لیے اللہ نے بندوں کو مقرر کر دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكِّر تعالى عبادَه نعمه، ويستدعي منهم شكرها والاعتراف بها، فقال: {والله جعل لكم من بيوتِكُم سَكَناً}: في الدُّور والقصور ونحوها، تُكِنُّكم من الحرِّ والبرد، وتستُركم أنتم وأولادكم وأمتعتكم، وتتَّخذون فيها البيوت والغرف، والبيوت التي هي لأنواع منافعكم ومصالحكم، وفيها حفظٌ لأموالكم وحُرَمِكم وغيرِ ذلك من الفوائد المشاهدة. {وجعلَ لكُم من جلودِ الأنعام}: إما من الجلدِ نفسِهِ، أو مما نَبَتَ عليه من صوفٍ وشعرٍ ووبرٍ، {بيوتاً تَسْتَخِفُّونها}؛ أي: خفيفة الحمل تكون لكم في السفر، والمنازل التي لا قَصْدَ لكم في استيطانها، فتقيكم من الحرِّ والبرد والمطرِ، وتقي متاعكم من المطر. {و} جعل لكم {من أصوافِها}؛ أي: الأنعام، {وأوبارِها وأشعارِها أثاثاً}: وهذا شاملٌ لكلِّ ما يُتَّخذ منها من الآنية والأوعية والفُرُش والألبسة والأجِلَّة وغير ذلك. {ومتاعاً إلى حينٍ}؛ أي: تتمتَّعون بذلك في هذه الدُّنيا وتنتفعون بها؛ فهذا مما سخَّر الله العباد لصنعته وعمله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔