تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مگر ظالموں نے تکبر اور عناد ہی کا مظاہرہ کیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ فَاِنْتَوَلَّوْا ﴾”پھر اگر وہ پھر جائیں “ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی آیات کے ذریعے سے تذکیر کے بعد بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت سے روگردانی کریں ﴿ فَاِنَّمَاعَلَیْكَالْ٘بَلٰ٘غُ٘الْمُبِیْنُ ﴾”تو آپ کا کام صرف کھول کر سنا دینا ہے“ ان کی ہدایت و توفیق آپ کے ذمے نہیں ہے بلکہ آپ سے صرف وعظ و تذکیر اور انذار و تحذیر کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكنْ أبى الظالمونَ إلاَّ تمرُّداً وعناداً، ولهذا قال الله عنهم: {فإنْ تَوَلَّوا}: عن الله وعن طاعته بعدما ذُكِّروا بنعمه وآياته، {فإنَّما عليك البلاغُ المبين}: ليس عليك من هدايتهم وتوفيقهم شيءٌ، بل أنت مطالَبٌ بالوعظ والتَّذْكير والإنذار والتحذير.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔