تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 82

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۸۲﴾
پھر اگر وہ پھر جائیں تو تیرے ذمے تو صرف واضح پیغام پہنچا دینا ہے۔ En
اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے
En
پھر بھی اگر یہ منھ موڑے رہیں تو آپ پر صرف کھول کر تبلیﻎ کر دینا ہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر ظالموں نے تکبر اور عناد ہی کا مظاہرہ کیا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ فَاِنْ تَوَلَّوْا پھر اگر وہ پھر جائیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی آیات کے ذریعے سے تذکیر کے بعد بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت سے روگردانی کریں ﴿ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْ٘بَلٰ٘غُ٘ الْمُبِیْنُ تو آپ کا کام صرف کھول کر سنا دینا ہے ان کی ہدایت و توفیق آپ کے ذمے نہیں ہے بلکہ آپ سے صرف وعظ و تذکیر اور انذار و تحذیر کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكنْ أبى الظالمونَ إلاَّ تمرُّداً وعناداً، ولهذا قال الله عنهم: {فإنْ تَوَلَّوا}: عن الله وعن طاعته بعدما ذُكِّروا بنعمه وآياته، {فإنَّما عليك البلاغُ المبين}: ليس عليك من هدايتهم وتوفيقهم شيءٌ، بل أنت مطالَبٌ بالوعظ والتَّذْكير والإنذار والتحذير.