تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا:} اس میں پہاڑوں کی قدرتی غاریں، کھود کر بنائے ہوئے مکان اور پہاڑوں میں کھود کر بنائی ہوئی لمبی سرنگیں، جن میں فوجی سامان، اسلحہ، جہاز اور فوج محفوظ رکھی جاتی ہے، سب شامل ہیں۔
➌ {وَ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ:} وہ لباس جو تمھیں گرمی سے بچاتے ہیں، بعض اہل علم نے فرمایا کہ قرآن کے اولین مخاطب عرب تھے، وہاں گرمی زیادہ تھی، اس لیے صرف گرمی سے بچانے والے لباس ذکر فرمائے۔ مگر اکثر مفسرین نے فرمایا کہ گرمی کا ذکر کافی سمجھ کر سردی کا الگ ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ لباس گرمی سے بچاتا ہے تو سردی سے بھی بچاتا ہے۔ رہا عرب میں گرمی کا زیادہ ہونا تو اسی سورت کے شروع میں جانوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «{ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ }» [النحل: ۵]”تمھارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان ہے۔“ معلوم ہوا عربوں کو بھی سردی سے بچنے کی ضرورت تھی، اس لیے یہ بات زیادہ قوی ہے کہ قرآن مجید نے صرف گرمی کا ذکر کرکے سردی سے بچانے کی نعمت پر غور کرنا سننے والوں پر چھوڑ دیا، یا سورت کے شروع میں {” لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ “} (تمھارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان ہے) میں سردی سے بچاؤ کا ذکر پہلے ہو چکنے کی وجہ سے یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ {” وَ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ “} اس میں زرہ، خود، بلٹ پروف (گولی سے محفوظ) جیکٹیں، گاڑیاں اور ٹینک وغیرہ سب شامل ہیں۔
➍ { لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ:} یعنی تاکہ تم فرماں بردار اور اللہ تعالیٰ کے تابع بن جاؤ، اس لیے کہ جو شخص ان بے پایاں نعمتوں پر غور کرے گا ضروری ہے کہ وہ ایمان لا کر اس کی اطاعت اختیار کرے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[84] ﴿لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ﴾ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے اور دوسرا یہ ہے کہ لباس اس لیے بنائے کہ تم گرمی کی لو سے محفوظ رہو اور جنگی لباس یا زرہ بکتر وغیرہ اس لیے بنائے کہ تم دوران جنگ زخمی ہونے سے محفوظ رہ سکو۔ اور اتمام نعمت سے مراد یہاں انسان کی جملہ ضروریات کی تکمیل ہے۔ جن میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے منعم حقیقی کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دے اور اس کا فرمانبردار بن کر رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«تُسْلِمُونَ» کی دوسری قرأت «تَسْلَمُوْنَ» بھی ہے، یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرمانبردار بن جاؤ۔ اس سورۃ کا نام سورۃ النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لیے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بےشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حلانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واللهُ جَعَلَ لكم مما خَلَقَ}؛ أي: من مخلوقاته التي لا صنعةَ لكم فيها، {ظلالاً}: وذلك كأظِلَّة الأشجار والجبال والآكام ونحوِهِا. {وجعل لكُم من الجبال أكناناً}؛ أي: مغارات تُكِنُّكم من الحرِّ والبرد والأمطار والأعداء. {وجَعَلَ لكم سرابيلَ}؛ أي: ألبسة وثياباً، {تقيكُمُ الحرَّ}: ولم يذكُرِ الله البردَ؛ لأنَّه قد تقدَّم أنَّ هذه السورة أولها في أصول النعم وآخرها في مكمِّلاتها ومتمِّماتها، ووقاية البرد من أصول النِّعم؛ فإنَّه من الضرورة وقد ذكره في أولها في قوله: {لكُم فيها دِفْءٌ ومنافعُ}. و {تقيكُم بأسَكُم}؛ أي: وثياباً تَقيكم وقت البأس والحرب من السلاح، وذلك كالدُّروع والزُّرود ونحوها. {كذلك يُتِمُّ نعمتَه عليكم}: حيث أسبغَ عليكم من نعمِهِ ما لا يدخُلُ تحت الحصر. {لعلَّكم}: إذا ذكرتُم نعمة الله ورأيتموها غامرةً لكم من كلِّ وجه؛ {تُسْلِمونَ}: لعظمتِهِ وتنقادون لأمرِهِ وتصرفونها في طاعة مُوليها ومُسْديها؛ فكثرةُ النعم من الأسباب الجالبة من العباد مزيدَ الشُّكر والثناء بها على الله تعالى.