تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 79

اَلَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیۡ جَوِّ السَّمَآءِ ؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷۹﴾
کیا انھوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا، آسمان کی فضا میں مسخر ہیں، انھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں تھامتا۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔ En
کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہو کر فضا میں ہیں، جنہیں بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور تھامے ہوئے نہیں، بیشک اس میں ایمان ﻻنے والے لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیونکہ اہل ایمان آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آیات الٰہی میں غوروفکر کرتے ہیں۔ رہے کفار تو وہ آیات الٰہی کو لہو و لعب اور غفلت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہیئت میں پیدا کیا ہے جو ان کے اڑنے کے لیے درست ہے، پھر ان کے لیے اس لطیف ہوا کو مسخر کر دیا، پھر ان پرندوں میں حرکت کرنے کی قوت اور وہ چیز ودیعت کی جن کے ذریعے سے وہ اڑنے پر قادر ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت، لامحدود علم، تمام مخلوق پر اس کی عنایت ربانی اور اس کے اقتدار کامل کی دلیل ہے۔ نہایت بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لأنهم المنتفعون بآيات الله، المتفكِّرون فيما جُعِلَتْ آيةٌ عليه، وأما غيرهم؛ فإنَّ نظرهم نظرُ لهوٍ وغفلةٍ. ووجه الآية فيها أنَّ الله تعالى خَلَقَها بخلقةٍ تَصْلُحُ للطيران، ثم سخَّر لها هذا الهواء اللطيف، ثم أودعَ فيها من قوَّة الحركة ما قدرت به على ذلك، وذلك دليلٌ على حكمتِهِ وعلمِهِ الواسع وعنايتِهِ الربانيَّة بجميع مخلوقاتِهِ وكمال اقتدارِهِ؛ تبارك ربُّ العالمين.