تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا:} اگرچہ گھر کوئی بھی ہو بڑی نعمت ہے، مگر اینٹوں، پتھروں کا گھر بنانے میں نعمت ہونے کے باوجود مشقت، بوجھ اور خرچ زیادہ ہے، سب سے پہلے زمین حاصل کرنا، اینٹیں، پتھر، مصالحہ، مٹی، لکڑی، لوہا، غرض سب کچھ مہیا کرنا، پھر مستریوں کے ناز اٹھانا، سارے مراحل مشکل ہیں، پھر وہ مکان کہیں منتقل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا انعام دیکھیے کہ اس نے ہماری آسانی کے لیے جانوروں کے چمڑوں سے خیمے بنا دیے، چند لکڑیاں اور رسیاں اور بنا بنایا مکمل گھر، جہاں چاہا میخیں ٹھونک کر رسیاں باندھ کر خیمہ بنا لیا، اسی چمڑے کی قناتیں کھڑی کرکے چار دیواری بنا لی۔ پھر جب چاہا اکھاڑ کر تہ کرکے ساتھ رکھ لیا اور اگلی منزل پر روانہ ہو گئے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی ہلکے پلاسٹک اور المونیم کے خیمے عطا فرما دیے۔
➌ {تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ يَوْمَ اِقَامَتِكُمْ …: ” تَسْتَخِفُّوْنَهَا “ ”خَفَّ يَخِفُّ“} سے باب استفعال جمع مذکر حاضر ہے۔ {”يَوْمَ ظَعْنِكُمْ “} یہاں {” يَوْمَ “} سے مراد وقت ہے۔ {”أَصْوَافٌ“ ”صُوْفٌ“} کی جمع ہے، بھیڑ کی اون۔ {”أَوْبَارٌ“ ”وَبَرٌ “} کی جمع، اونٹ کی پشم۔ {”أَشْعَارٌ“ ”شَعْرٌ“} کی جمع ہے، بکریوں کے بال۔ {” اَثَاثًا “} گھر کا سازو سامان جو بہت ہو۔ {”أَثَّ يَؤُثُّ“} (ن) جب کوئی چیز بہت اور گھنی ہو۔ امرء القیس نے بالوں کی چوٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے:
{وَ فَرْعٍ يَزِيْنُ الْمَتْنَ أَسْوَدَ فَاحِمٍ
أَثِيْثٍ كَقِنْوِ النَّخْلَةِ الْمُتَعَثْكِلِ
” أَثِيْثٍ “} یعنی گھنے، {” مَتَاعًا “} گھر کی ضرورت کی خاص چیزیں جن سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔{ ” اَثَاثًا “} میں{ ” مَتَاعًا “} بھی داخل ہے، مگر اس کی اہمیت کی بنا پر الگ بھی ذکر فرمایا۔ {” اِلٰى حِيْنٍ “} ایک وقت تک، یعنی جو اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے، مثلاً نیا سامان آنے تک، یا اس کے پرانا ہونے تک، یا دنیا سے رخصت ہونے تک۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«تُسْلِمُونَ» کی دوسری قرأت «تَسْلَمُوْنَ» بھی ہے، یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرمانبردار بن جاؤ۔ اس سورۃ کا نام سورۃ النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لیے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بےشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حلانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكِّر تعالى عبادَه نعمه، ويستدعي منهم شكرها والاعتراف بها، فقال: {والله جعل لكم من بيوتِكُم سَكَناً}: في الدُّور والقصور ونحوها، تُكِنُّكم من الحرِّ والبرد، وتستُركم أنتم وأولادكم وأمتعتكم، وتتَّخذون فيها البيوت والغرف، والبيوت التي هي لأنواع منافعكم ومصالحكم، وفيها حفظٌ لأموالكم وحُرَمِكم وغيرِ ذلك من الفوائد المشاهدة. {وجعلَ لكُم من جلودِ الأنعام}: إما من الجلدِ نفسِهِ، أو مما نَبَتَ عليه من صوفٍ وشعرٍ ووبرٍ، {بيوتاً تَسْتَخِفُّونها}؛ أي: خفيفة الحمل تكون لكم في السفر، والمنازل التي لا قَصْدَ لكم في استيطانها، فتقيكم من الحرِّ والبرد والمطرِ، وتقي متاعكم من المطر. {و} جعل لكم {من أصوافِها}؛ أي: الأنعام، {وأوبارِها وأشعارِها أثاثاً}: وهذا شاملٌ لكلِّ ما يُتَّخذ منها من الآنية والأوعية والفُرُش والألبسة والأجِلَّة وغير ذلك. {ومتاعاً إلى حينٍ}؛ أي: تتمتَّعون بذلك في هذه الدُّنيا وتنتفعون بها؛ فهذا مما سخَّر الله العباد لصنعته وعمله.