تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 4

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴﴾
اس نے انسان کو ایک قطرے سے پیدا کیا، پھر اچانک وہ کھلم کھلا بہت جھگڑنے والا ہے۔ En
اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا
En
اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وه صریح جھگڑالو بن بیٹھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا: ﴿ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر خلق السماوات [والأرض] ؛ ذكر خَلْقَ ما فيهما، وبدأ بأشرف ذلك، وهو الإنسان، فقال: {خلق الإنسان من نُطفةٍ}: لم يزل يدبِّرها ويرقيها وينمِّيها حتى صارت بشراً تامًّا كامل الأعضاء الظاهرة والباطنة، قد غمره بنعمه الغزيرة، حتى إذا استتمَّ فَخَرَ بنفسه وأُعْجِب بها. {فإذا هو خصيمٌ مبينٌ}: يُحتمل أن المراد: فإذا هو خصيمٌ لربِّه؛ يكفر به، ويجادل رسلَه، ويكذِّب بآياته، ونسي خلقَه الأوَّل، وما أنعم الله عليه به من النعم، فاستعان بها على معاصيه.

ويُحتمل أنَّ المعنى أنَّ الله أنشأ الآدميَّ من نطفةٍ، ثم لم يزل ينقله من طَوْرٍ إلى طَوْرٍ، حتى صار عاقلاً، متكلِّماً، ذا ذهن ورأي، يخاصم ويجادل؛ فليشكرِ العبدُ ربَّه الذي أوصله إلى هذه الحال، التي ليس في إمكانه القدرة على شيء منها.