تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَ٘عٰ٘لٰ٘ىعَمَّایُشْرِكُوْنَؔ ﴾”یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأخبر أنه {خلق السموات والأرض بالحقِّ}؛ ليستدلَّ بهما العبادُ على عظمة خالقهما وما له من نعوت الكمال، ويعلموا أنه خلقهما مسكناً لعباده الذين يعبدونه بما يأمرهم به من الشرائع التي أنزلها على ألسنة رسله، ولهذا نزَّه نفسه عن شرك المشركين به، فقال: {تعالى عما يشركون}، أي: تنزَّه وتعاظم عن شركهم؛ فإنه الإله حقًّا، الذي لا تنبغي العبادة والحبُّ والذُّلُّ إلا له تعالى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔