ترجمہ و تفسیر — سورۃ النحل (16) — آیت 4

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴﴾
اس نے انسان کو ایک قطرے سے پیدا کیا، پھر اچانک وہ کھلم کھلا بہت جھگڑنے والا ہے۔ En
اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا
En
اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وه صریح جھگڑالو بن بیٹھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت4){خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ …: نَطَفَ} (ض، ن) ٹپکنا۔ { نُّطْفَةٍ } قطرہ۔ تاء تحقیر کے لیے ہے، یعنی حقیر اور معمولی قطرے سے۔ { خَصِيْمٌ } مبالغے کا صیغہ ہے۔ زمین و آسمان کے بعد ان میں پیدا کردہ چیزیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش فرمائیں، سب سے پہلے انسان کا ذکر فرمایا، یہی بات سورۂ یس میں تفصیل سے بیان فرمائی، فرمایا: «{ اَوَ لَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ (77) وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّحْيِ الْعِظَامَ وَ هِيَ رَمِيْمٌ [یٰسٓ: ۷۷، ۷۸] اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والا ہے اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا، کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جبکہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟ { إِذَا } فجائیہ اچانک کے معنی میں آتا ہے، یعنی ایسی عجیب چیز کا وجود میں آنا جس کا وہم و گمان بھی نہ ہو، یعنی اگر یاد رکھتا تو ایک حقیر قطرے سے مختلف اطوار سے گزر کر وجود میں آنے والے انسان سے اس جھگڑے کی توقع ہی نہ کی جا سکتی تھی، بلکہ حق یہ تھا کہ وہ اپنی پیدائش کو یاد رکھتا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آیت کے دونوں حصوں سے اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر استدلال مقصود ہو، یعنی نطفہ سے پیدا کیا، پھر اس میں کامل طور پر ساری قوتیں یعنی سوچنے سمجھنے کی اور بولنے کی پیدا کر دیں کہ حجت و استدلال اور بحث کے قابل ہو گیا۔ (روح المعانی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 یعنی ایک جامد چیز سے جو ایک جاندار کے اندر سے نکلتی ہے۔ جسے منی کہا جاتا ہے۔ اسے مختلف اطوار سے گزار کر ایک مکمل صورت دی جاتی ہے، پھر اس میں اللہ تعالیٰ روح پھونکتا ہے اور ماں کے پیٹ سے نکال کر اس دنیا میں لاتا ہے جس میں وہ زندگی گزارتا ہے لیکن جب اسے شعور آتا ہے تو اسی رب کے معاملے میں جھگڑتا، اس کا انکار کرتا یا اس کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا مگر وہ دیکھتے دیکھتے (اسی کے بارے میں) کھلم کھلا جھگڑالو [6] بن گیا
[6] خصیم مبین سے مراد؟
اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انسان جو ایک ننھی سی پانی کی بوند سے پیدا ہوا ہے نفخہ روح خداوندی کی بدولت وہ بحث و استدلال کا ڈھنگ سیکھ جاتا ہے اور اپنے مدعا پر طرح طرح کے دلائل پیش کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔ اس مطلب میں قدرت خداوندی کا اظہار مقصود ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی اوقات کی طرف نظر نہیں کرتا کہ وہ ایک حقیر سی پانی کی بوند سے پیدا کیا گیا ہے پھر جب اس میں کچھ عقل آتی ہے تو حق کے مقابلہ میں کٹ حجتیاں پیش کرنے لگ جاتا ہے حتیٰ کہ اپنے خالق اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی جھگڑا کرنے سے باز نہیں آتا اور اس مطلب سے مقصود انسان کی سرکشی کا اظہار ہے اور اسی مطلب کی تائید سورۃ یٰسین کی آیت نمبر 77، 78 سے بھی ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
عالم علوی اور سفلی کا خالق اللہ کریم ہی ہے -بلند آسمان اور پھیلی ہوئی زمین مع تمام مخلوق کے اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ سب بطور حق ہے نہ بطور عبث۔ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہو گی۔ وہ تمام دوسرے معبودوں اور مشرکوں سے بری اور بیزار ہے۔ واحد ہے، لا شریک ہے، اکیلا ہی خالق کل ہے۔ اسی لیے اکیلا ہی سزاوار عبادت ہے۔
انسان حقیر و ذلیل لیکن خالق کا انتہائی نافرمان ہے۔ اس نے انسان کا سلسلہ نطفے سے جاری رکھا ہے جو ایک پانی ہے۔ حقیر و ذلیل یہ جب ٹھیک ٹھاک بنا دیا جاتا ہے تو اکڑفوں میں آجاتا ہے رب سے جھگڑنے لگتا ہے رسولوں کی مخالفت پر تل جاتا ہے۔
بندہ تھا چاہیئے تو تھا کہ بندگی میں لگا رہتا لیکن یہ تو زندگی کرنے لگا۔ اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ وَكَانَ الْكَافِرُ عَلَى رَبِّهِ ظَهِيرًا» [25-الفرقان:54-55]‏‏‏‏ ’ اللہ نے انسان کو پانی سے بنایا اس کا نسب اور سسرال قائم کیا۔ اللہ قادر ہے رب کے سوا یہ ان کی پوجا کرنے لگے ہیں جو بے نفع اور بے ضرر ہیں کافر کچھ اللہ سے پوشیدہ نہیں ‘۔
سورۃ یاسین میں فرمایا «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-یس:77-79]‏‏‏‏ ’ کیا انسان نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تو بڑا ہی جھگڑالو نکلا۔ ہم پر بھی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش بھول گیا کہنے لگا کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہہ دو کہ انہیں وہ خالق اکبر پیدا کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا وہ تو ہر طرح کی مخلوق کی پیدائش کا پورا عالم ہے ‘۔
مسند احمد اور ابن ماجہ میں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر فرمایا کہ جناب باری فرماتا ہے کہ ’ اے انسان تو مجھے کیا عاجز کر سکتا ہے میں نے تو تجھے اس تھوک جیسی چیز سے پیدا کیا ہے جب تو زندگی پا گیا تنومند ہو گیا لباس مکان مل گیا تو لگا سمیٹنے اور میری راہ سے روکنے؟ اور جب دم گلے میں اٹکا تو تو کہنے لگا کہ اب میں صدقہ کرتا ہو، اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔ بس اب صدقہ خیرات کا وقت نکل گیا ‘ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:2707،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا: ﴿ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر خلق السماوات [والأرض] ؛ ذكر خَلْقَ ما فيهما، وبدأ بأشرف ذلك، وهو الإنسان، فقال: {خلق الإنسان من نُطفةٍ}: لم يزل يدبِّرها ويرقيها وينمِّيها حتى صارت بشراً تامًّا كامل الأعضاء الظاهرة والباطنة، قد غمره بنعمه الغزيرة، حتى إذا استتمَّ فَخَرَ بنفسه وأُعْجِب بها. {فإذا هو خصيمٌ مبينٌ}: يُحتمل أن المراد: فإذا هو خصيمٌ لربِّه؛ يكفر به، ويجادل رسلَه، ويكذِّب بآياته، ونسي خلقَه الأوَّل، وما أنعم الله عليه به من النعم، فاستعان بها على معاصيه.

ويُحتمل أنَّ المعنى أنَّ الله أنشأ الآدميَّ من نطفةٍ، ثم لم يزل ينقله من طَوْرٍ إلى طَوْرٍ، حتى صار عاقلاً، متكلِّماً، ذا ذهن ورأي، يخاصم ويجادل؛ فليشكرِ العبدُ ربَّه الذي أوصله إلى هذه الحال، التي ليس في إمكانه القدرة على شيء منها.