تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 5

وَ الۡاَنۡعَامَ خَلَقَہَا ۚ لَکُمۡ فِیۡہَا دِفۡءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۪۵﴾
اور چوپائے، اس نے انھیں پیدا کیا، تمھارے لیے ان میں گرمی حاصل کرنے کا سامان اور بہت سے فائدے ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔ En
اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو
En
اسی نے چوپائے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے گرمی کے لباس ہیں اور بھی بہت سے نفع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالْاَنْعَامَ خَلَقَهَا اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ ان میں تمھارے لیے گرمی ہے جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر فوائد ہیں ﴿ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَؔ اور ان (جانوروں) میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والأنعامَ خلقها لكم}؛ أي: لأجلكم ولأجل منافعكم ومصالحكم، من جملة منافعها العظيمة، أنَّ {لكم فيها دفءٌ}: مما تتَّخذون من أصوافها وأوبارها وأشعارها وجلودِها من الثياب والفرش والبيوت. {و} لكم فيها {منافعُ}: غيرُ ذلك، {ومنها تأكلون}.