تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 125

اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔ بے شک تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے گمراہ ہوا اور وہی ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ En
(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے
En
اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی تمام مخلوق کو، خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر، آپ کی اپنے رب کے سیدھے راستے کی طرف دعوت، علم نافع اور عمل صالح پر مشتمل ہونی چاہیے ﴿بِالْحِكْمَةِ حکمت کے ساتھ یعنی ہر ایک کو اس کے حال، اس کی فہم اور اس کے اندر قبولیت اور اطاعت کے مادے کے مطابق دعوت دیجیے۔ حکمت یہ ہے کہ جہل کی بجائے علم کے ذریعے سے دعوت دی جائے اور اس چیز سے ابتدا کی جائے جو سب سے زیادہ اہم، عقل اور فہم کے سب سے زیادہ قریب ہو اور ایسے نرم طریقے سے دعوت دی جائے کہ اسے کامل طور پر قبول کر لیا جائے۔ اگر حکمت کے ساتھ دی گئی دعوت کے سامنے سرتسلیم خم کر دے تو ٹھیک ورنہ اچھی نصیحت کے ذریعے سے دعوت کی طرف منتقل ہو جائے اور اس سے مراد امرو نہی ہے جو ترغیب و ترہیب سے مقرون ہو… یا تو ان متعدد مصالح کا ذکر کرے جن پر اوامر مشتمل ہیں اور ان متعدد مضرتوں کو بیان کرے جو نواہی میں پنہاں ہیں یا ان لوگوں کی اللہ کے ہاں تکریم کو بیان کرے جنھوں نے اللہ کے دین کو قائم کیا اور ان لوگوں کی اہانت کا تذکرہ کرے جنھوں نے اللہ کے دین کو قائم نہیں کیا یا اس دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرے جو اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کے لیے تیار کررکھا ہے اور اس دنیاوی اور اخروی عذاب کا ذکر کرے جو اس نے نافرمانوں کے لیے تیار کیا ہوا ہے۔
اگر وہ شخص جس کو دعوت دی گئی ہے، یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف برحق ہے یا داعی باطل کی طرف دعوت دینے والا ہے تو اس کے ساتھ احسن طریقے سے بحث کی جائے۔ یہ ایسا طریقہ ہے جو عقلاً اور نقلاً دعوت کی قبولیت کا زیادہ موجب ہے، مثلاً:اس شخص سے ایسے دلائل کے ساتھ بحث کی جائے جن کو وہ خود تسلیم کرتا ہو یہ حصول مقصد کا قریب ترین ذریعہ ہے۔ یہ بحث جھگڑے اور گالی گلوچ تک نہ پہنچے ورنہ مقصد فوت ہو جائے گا اور کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا۔ بحث کا مقصد تو لوگوں کی حق کی طرف راہنمائی کرنا ہے نہ کہ بحث میں جیتنا وغیرہ۔
﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ٘ آپ کا رب ہی بہتر جانتا ہے اس کو جو بھٹک گیا اس کے راستے سے یعنی آپ کا رب اس سبب کو زیادہ جانتا ہے جس نے اسے گمراہی میں مبتلا کیا ہے اور وہ اس کے ان اعمال کو بھی جانتا ہے جو اس کی گمراہی پر مترتب ہوئے ہیں وہ عنقریب ان کو ان اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ اور وہ ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے نوازا، پھر ان پر احسان کرتے ہوئے انھیں چن لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ليكن دعاؤك للخلق مسلمهم وكافرهم إلى سبيل ربِّك المستقيم المشتمل على العلم النافع والعمل الصالح، {بالحكمة}؛ أي: كل أحدٍ على حسب حاله وفَهْمه وقَبوله وانقياده، ومن الحكمة الدعوةُ بالعلم لا بالجهل، والبدأة بالأهمِّ فالأهمِّ، وبالأقربِ إلى الأذهان والفهم، وبما يكون قَبوله أتمَّ، وبالرفق واللين؛ فإنِ انقاد بالحكمة، وإلاَّ؛ فينتقل معه بالدعوة بالموعظة الحسنة، وهو الأمر والنهي المقرون بالترغيب والترهيب: إما بما تشتمل عليه الأوامر من المصالح وتعدادها والنواهي من المضار وتعدادها، وإما بذكر إكرام من قامَ بدين الله وإهانةِ من لم يقُم به، وإما بذكر ما أعدَّ الله للطائعين من الثواب العاجل والآجل وما أعدَّ للعاصين من العقاب العاجل والآجل؛ فإن كان المدعوُّ يرى أن ما [هو] عليه حقٌّ، أو كان داعيةً إلى الباطل؛ فيجادَلُ بالتي هي أحسن، وهي الطُّرق التي تكون أدعى لاستجابته عقلاً ونقلاً، ومن ذلك الاحتجاج عليه بالأدلَّة التي كان يعتقدها؛ فإنَّه أقرب إلى حصول المقصود وأن لا تؤدِّي المجادلة إلى خصام أو مشاتمةٍ تذهب بمقصودها ولا تحصُل الفائدة منها، بل يكون القصدُ منها هداية الخلق إلى الحقِّ لا المغالبة ونحوها. وقوله: {إنَّ ربَّك هو أعلم بمن ضلَّ عن سبيله}؛ علم السبب الذي أدَّاه إلى الضلال، وعلم أعماله المترتِّبة على ضلالته، وسيجازيه عليها. {وهو أعلم بالمهتدين}: علم أنَّهم يَصْلُحون للهداية فهداهم، ثم منَّ عليهم فاجتباهم.