تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ عدل کو مباح کرتے اور فضل و احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِنْعَاقَبْتُمْ ﴾”اور اگر تم بدلہ لو“ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمھیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے ﴿ فَعَاقِبُوْابِمِثْلِمَاعُوْقِبْتُمْبِهٖ﴾”تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم تکلیف پہنچائی گئی“ یعنی تمھارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے، بدلہ لیتے وقت تمھاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ ﴿ وَلَىِٕنْصَبَرْتُمْ ﴾”اور اگر تم صبر کر لو“ یعنی بدلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کر دو تو ﴿ لَهُوَخَیْرٌلِّلصّٰؔبِرِیْنَ ﴾”وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔“ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجروثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تمھارے لیے بہتر اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَ٘مَنْعَفَاوَاَصْلَ٘حَفَاَجْرُهٗعَلَىاللّٰهِ﴾ (الشوریٰ:42؍40) ”جو معاف کر کے معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيحاً للعدل ونادباً للفضل والإحسان: {وإنْ عاقَبْتُم}: مَنْ أساء إليكم بالقول والفعل، {فعاقِبوا بمثل ما عُوقِبْتُم به}: من غير زيادةٍ منكم على ما أجراه معكم. {ولَئِن صبرتُم}: عن المعاقبة وعفوتُم عن جرمهم، {لهو خيرٌ للصَّابرينَ}: من الاستيفاء، وما عند الله خيرٌ لكم وأحسن عاقبةً؛ كما قال تعالى: {فمن عفا وأصْلَحَ فأجْرُهُ على الله}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔