تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَی الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾
ہفتے کا دن تو صرف ان لوگوں پر مقرر کیا گیا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا اور بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن یقینا اس کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ En
ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے
En
ہفتے کے دن کی عظمت تو صرف ان لوگوں کے ذمے ہی ضروری کی گئی تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، بات یہ ہے کہ آپ کا پروردگار خود ہی ان میں ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ ہفتے کا دن فرض کیا گیا ﴿ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ صرف انھی پر جو اس میں اختلاف کرتے تھے یعنی جب وہ جمعہ کے دن کے بارے میں بھٹک گئے… مراد یہود ہیں … ان کا اختلاف اس بات کا سبب بنا کہ اللہ ہفتے کے دن کا احترام اور تعظیم ان پر واجب کر دے ورنہ حقیقی فضیلت تو جمعہ کے دن ہی کو حاصل ہے۔ جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس امت کی راہنمائی فرمائی۔ ﴿وَاِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ بے شک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے سامنے حق پسند اور باطل پسند کے درمیان فرق واضح کر دے گا اور ظاہر کر دے گا کہ ثواب کا مستحق کون ہے اور عذاب کا مستحق کون ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {إنَّما جُعِلَ السَّبْتُ}؛ أي: فرضاً {على الذين اختلفوا فيه}: حين ضلُّوا عن يوم الجمعة، وهم اليهود، فصار اختلافهم سبباً لأن يجب عليهم في السبتِ احترامه وتعظيمه، وإلاَّ؛ فالفضيلةُ الحقيقيَّة ليوم الجمعة، الذي هدى الله هذه الأمة إليه. {وإنَّ ربَّك لَيحكُمُ بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون}: فيبيِّن لهم المحقَّ من المبطِل والمستحقَّ للثواب ممن استحقَّ العذاب.