تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ:} ”اچھی نصیحت“ سے مراد ایسی بات ہے جو مخاطب کے دل کو نیکی کے عمل کے لیے نرم کرے، یا بدی کے خلاف ابھار دے، ترغیب کے ذریعے سے یا ترہیب (ڈرانے) کے ساتھ، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا }» [النساء: ۶۳] ”سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں وعظ (نصیحت) کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔“ اسے دلیل خطابی کہتے ہیں۔ دعوت کے اس اسلوب میں حسن و خوبی اور نرمی و ملائمت کو ملحوظ رکھنا اور بدزبانی و سخت کلامی سے پرہیز لازم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو فرعون کی طرف بھیجا تو حکم دیا: «{ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى }» [طٰہٰ: ۴۴] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے۔“
➌ { وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ:} دعوت کے دوران میں اگر حکمت اور موعظۂ حسنہ کے باوجود مخاطب بحث اور مجادلے (جھگڑے) پر اتر آئیں تو آپ بھی ان سے مجادلہ کریں، کیونکہ پھر اس کے بغیر چارہ نہیں، مگر یہ ہر حال میں احسن (زیادہ اچھا) ہونا چاہیے۔ کس سے احسن؟ جواب یہ ہے کہ سب سے بہتر یا کم از کم ان کے مجادلے سے بہتر طریقے کے ساتھ ہو، کیونکہ باب مفاعلہ میں دو فریق ہوتے ہیں، یہاں ایک تم ہو اور ایک وہ، اس لیے احسن کا مطلب یہ ہو گا ان کے طریقے سے بہتر، جس میں گالی گلوچ اور ذاتی حملے وغیرہ نہ ہوں، بلکہ ایسی بات ہو جس سے وہ لاجواب ہو جائیں۔ انبیاء اور ان کے حقیقی وارث علماء کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے خاص طور پر نوازتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی والد کو حکمت اور موعظۂ حسنہ کے ساتھ دعوت (دیکھیے مریم: ۴۲)، پھر بت توڑ کر بت پرستوں کے ساتھ بحث میں ان کو لاجواب کرنا (دیکھیے انبیاء: ۵۱ تا ۶۸)، پھر سورج، چاند اور ستاروں کے پوجنے والوں کو بحث میں لاجواب کرنا (دیکھیے انعام: ۷۶ تا ۸۳)، پھر بادشاہِ وقت کو رب ہونے کے دعویٰ میں لاجواب کرنا (دیکھیے بقرہ: ۲۵۸) اور نوح علیہ السلام کی قوم کا مجادلہ و بحث میں لاجواب ہو کر عذاب لانے کا مطالبہ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ (دیکھیے ہود: ۳۲) موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے مکالمے بھی اس کی خوبصورت مثالیں ہیں۔ قرآن مجید مشرکین اور اہلِ کتاب سے مجادلۂ احسن پر مشتمل آیات سے بھرا پڑا ہے، بلکہ یہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں سے ایک ہے۔ دیکھیے ”الفوز الکبیر“ از شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ۔
➍ بعض لوگوں نے کہا کہ اس قسم کی آیات مکی سورتوں میں ہیں، اس لیے یہ جہاد کے احکام کے ساتھ منسوخ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ احکام اب بھی مؤثر ہیں اور اگر کوئی شخص حکمت، موعظۂ حسنہ اور مجادلۂ احسن کے بعد بھی نہ مانے تو اس کے لیے جہاد کا استثنا مکی سورتوں ہی میں موجود ہے۔ چنانچہ سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ }» [العنکبوت: ۴۶] ”اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا ہو، مگر وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا۔“ ظاہر ہے کہ مجادلۂ احسن کے بعد بھی ظلم پر قائم رہنے والوں کے لیے جہاد کے سوا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ یہ ایک فطری حقیقت ہے جیسا کہ فِند زِمّانی نے کہا ہے:
{فَلَمَّا صَرَّحَ الشَّرُّ
وَأَمْسٰي وَهُوَ عُرْيَانُ
وَلَمْ يَبْقَ سِوَي الْعُدْوَانِ
دِنَّاهُمْ كَمَا دَانُوْا}
”پھر جب لڑائی بالکل ظاہر ہو گئی اور ننگی ہو کر سامنے آ گئی اور زیادتی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو ہم نے بھی بدلے میں ان سے وہی کیا جو انھوں نے کیا تھا۔“ بلکہ اس آیت سے اگلی آیت میں بھی جہاد کا ذکر موجود ہے، صرف غور کی ضرورت ہے۔
➎ {اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ …:} اس آیت کے فوائد میں سے دو فائدے زیادہ ظاہر ہیں، ایک تو یہ کہ آپ کسی شخص کے ایمان نہ لانے پر اسے دعوت دینا ترک نہ کریں، آپ کو علم نہیں، ہو سکتا ہے وہ ان خوش نصیبوں میں سے ہو جنھیں ہدایت نصیب ہونی ہے، یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا {” اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ “} (بے شک تیرا رب ہی اسے زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکا ہوا ہے) تو آگے بظاہر اتنا ہی کہنا کافی تھا {” بِالْمُهْتَدِيْنَ “} (اور ہدایت پانے والوں کو بھی) مگر اللہ تعالیٰ نے {” وَ هُوَ اَعْلَمُ “} کو دوبارہ ذکر فرمایا۔ مقصد یہ ہے کہ کافر لوگ بے شک اپنے آپ کو ہدایت یافتہ اور مسلمانوں کو گمراہ سمجھتے رہیں، مگر اصل گمراہ کون ہے اور اصل ہدایت یافتہ کون ہے، یہ علم تیرے رب ہی کے پاس ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ» ۱؎ [29-العنكبوت:46] الخ، ’ اہل کتاب سے مناظرے مجادلے کا بہترین طریقہ ہی برتا کرو ‘، الخ۔
اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا کہ «فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى» ۱؎ [20-طه:44] ’ اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے ‘۔ گمراہ اور ہدایت یاب سب اللہ کے علم میں ہیں۔ شقی و سعید سب اس پر واضح ہیں۔ وہاں لکھے جا چکے ہیں اور تمام کاموں کے انجام سے فراغت ہو چکی ہے۔ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہیں لیکن نہ ماننے والوں کے پیچھے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالئے۔ آپ ہدایت کے ذمے دار نہیں آپ صرف آگاہ کرنے والے ہیں، آپ پر پیغام کا پہنچا دینا فرض ہے۔ حساب ہم آپ لیں گے۔ «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ» ۱؎ [28-القصص:56] ہدایت آپ کے بس کی چیز نہیں کہ جسے محبوب سمجھیں، ہدایت عطا کر دیں لوگوں کی ہدایت کے ذمے دار آپ نہیں یہ اللہ کے قبضے اور اس کے ہاتھ کی چیز ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ليكن دعاؤك للخلق مسلمهم وكافرهم إلى سبيل ربِّك المستقيم المشتمل على العلم النافع والعمل الصالح، {بالحكمة}؛ أي: كل أحدٍ على حسب حاله وفَهْمه وقَبوله وانقياده، ومن الحكمة الدعوةُ بالعلم لا بالجهل، والبدأة بالأهمِّ فالأهمِّ، وبالأقربِ إلى الأذهان والفهم، وبما يكون قَبوله أتمَّ، وبالرفق واللين؛ فإنِ انقاد بالحكمة، وإلاَّ؛ فينتقل معه بالدعوة بالموعظة الحسنة، وهو الأمر والنهي المقرون بالترغيب والترهيب: إما بما تشتمل عليه الأوامر من المصالح وتعدادها والنواهي من المضار وتعدادها، وإما بذكر إكرام من قامَ بدين الله وإهانةِ من لم يقُم به، وإما بذكر ما أعدَّ الله للطائعين من الثواب العاجل والآجل وما أعدَّ للعاصين من العقاب العاجل والآجل؛ فإن كان المدعوُّ يرى أن ما [هو] عليه حقٌّ، أو كان داعيةً إلى الباطل؛ فيجادَلُ بالتي هي أحسن، وهي الطُّرق التي تكون أدعى لاستجابته عقلاً ونقلاً، ومن ذلك الاحتجاج عليه بالأدلَّة التي كان يعتقدها؛ فإنَّه أقرب إلى حصول المقصود وأن لا تؤدِّي المجادلة إلى خصام أو مشاتمةٍ تذهب بمقصودها ولا تحصُل الفائدة منها، بل يكون القصدُ منها هداية الخلق إلى الحقِّ لا المغالبة ونحوها. وقوله: {إنَّ ربَّك هو أعلم بمن ضلَّ عن سبيله}؛ علم السبب الذي أدَّاه إلى الضلال، وعلم أعماله المترتِّبة على ضلالته، وسيجازيه عليها. {وهو أعلم بالمهتدين}: علم أنَّهم يَصْلُحون للهداية فهداهم، ثم منَّ عليهم فاجتباهم.