تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 120

اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلّٰہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمۡ یَکُ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
بے شک ابراہیم ایک امت تھا، اللہ کا فرماں بردار، ایک اللہ کی طرف ہوجانے والا اور وہ مشرکوں سے نہ تھا۔ En
بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
En
بےشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وه مشرکوں میں سے نہ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو فضیلت بخشی اور انھیں فضائل عالیہ اور مناقب کاملہ سے مختص کیا۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً بے شک ابراہیم ایک امت تھے یعنی امام، بھلائی کے خصائل کے جامع، ہدایت یافتہ اور راہنما تھے۔ ﴿ قَانِتًا لِّلّٰهِ اللہ کے فرماں بردار اپنے رب کے دائمی مطیع اور اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے۔ ﴿ حَنِیْفًا سب سے ایک طرف ہو کر یعنی محبت، انابت اور عبودیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے اور ماسوا سے منہ موڑنے والے: ﴿ وَلَمْ یَكُ مِنَ الْ٘مُشْ٘رِكِیْنَ اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے اپنے قول و عمل اور اپنے تمام احوال میں مشرکین میں سے نہ تھے کیونکہ وہ یک سو موحدین کے امام تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عمَّا فَضَّلَ به خليلَه إبراهيم عليه الصلاة والسلام وخصَّه به من الفضائل العالية والمناقب الكاملة، فقال: {إنَّ إبراهيم كان أمَّةً}؛ أي: إماماً جامعاً لخصال الخير هادياً مهتدياً، {قانتاً لله}؛ أي: مديماً لطاعة ربِّه مخلصاً له الدين، {حنيفاً}: مقبلاً على الله بالمحبَّة والإنابة والعبوديَّة، معرضاً عمَّن سواه. {ولم يَكُ من المشركين}: في قولِهِ وعمله وجميع أحواله؛ لأنَّه إمام الموحدين الحنفاء.