تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 121

شَاکِرًا لِّاَنۡعُمِہٖ ؕ اِجۡتَبٰہُ وَ ہَدٰىہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۱۲۱﴾
اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والا۔ اس نے اسے چن لیا اور اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔ En
اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا
En
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیده کر لیا تھا اور انہیں راه راست سجھا دی تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهِ اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو دنیا میں بھلائی عطا کی، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا اور انھوں نے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان تمام اچھی خصلتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ﴿ اِجْتَبٰؔىهُ ان (ابراہیم علیہ السلام) کے رب نے ان کو چن لیا انھیں اپنا خلیل بنایا اور انھیں اپنی مخلوق میں سے چنے ہوئے مقرب بندوں میں شامل کیا۔ ﴿ وَهَدٰؔىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اور انھیں (اپنے علم و عمل میں) صراط مستقیم پر گامزن کیا یعنی انھوں نے حق کو جان لیا اور اسے دیگر ہر چیز پر ترجیح دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{شاكراً لأنعمِهِ}؛ أي: آتاه الله في الدُّنيا حسنةً، وأنعم عليه بنعمٍ ظاهرةٍ وباطنةٍ، فقام بشكرها، فكان نتيجةُ هذه الخصال الفاضلة أنِ {اجتباه} ربُّه واختصَّه بخلَّته وجعله من صفوة خلقِهِ وخيار عباده المقرَّبين. {وهداه إلى صراطٍ مستقيم}: في علمه وعمله، فعلم بالحقِّ وآثره على غيره.