تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ عَمِلُوا السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۹﴾٪
پھر بے شک تیرا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے جہالت سے برے عمل کیے، پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی، بلاشبہ تیرا رب اس کے بعد یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے
En
جو کوئی جہالت سے برے عمل کرلے پھر توبہ کرلے اور اصلاح بھی کرلے تو پھر آپ کا رب بلا شک وشبہ بڑی بخشش کرنے واﻻ اور نہایت ہی مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو توبہ کی ترغیب اور انابت کی طرف دعوت ہے۔ اس لیے آگاہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص گناہ کے انجام سے لاعلمی کی بنا پر گناہ کر بیٹھتا ہے، خواہ یہ گناہ عمداً ہی کیوں نہ کیا ہو تو گناہ کے ارتکاب کے وقت اس کے قلب میں لازمی طور پر علم کم ہو جاتا ہے۔ جب وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے، یعنی ترک گناہ کے بعد گناہ پر نادم ہوتا ہے اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے، اس پر رحم کرتا ہے، اس کی توبہ قبول کر کے اس کو اس کی پہلی حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے یا پہلے سے بھی بلند تر مقام عطا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا حضٌّ منه لعبادِهِ على التوبة ودعوةٌ لهم إلى الإنابة، فأخبر أنَّ من عمل سوءاً {بجهالةٍ}: بعاقبةٍ ما تَجْني عليه، ولو كان متعمِّداً للذنب؛ فإنَّه لا بدَّ أن ينقص ما في قلبه من العلم وقتَ مقارفة الذنب؛ فإذا تاب وأصلح بأنْ تَرَكَ الذنب وندم عليه وأصلح أعمالَه؛ فإنَّ الله يغفر له ويرحمُه ويتقبَّل توبتَه ويعيدُه إلى حالته الأولى أو أعلى منها.