تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 111

یَوۡمَ تَاۡتِیۡ کُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِہَا وَ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
جس دن ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اپنی طرف سے جھگڑ رہا ہو گا اور ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ En
جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا
En
جس دن ہر شخص اپنی ذات کے لیے لڑتا جھگڑتا آئے اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر (مطلقاً) ﻇلم نہ کیا جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَوْمَ تَاْتِیْ كُ٘لُّ نَفْ٘سٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑا کرتا ہوا اپنی طرف سے یعنی ہر شخص (نفسی نفسی) پکارے گا اور اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہو گا، پس اس روز بندہ ذرہ بھر نیکی کے حصول کا بھی محتاج ہو گا۔ ﴿ وَتُوَفّٰى كُ٘لُّ نَفْ٘سٍ مَّا عَمِلَتْ اور پورا ملے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا یعنی نیک یا بد جو بھی عمل کیا ہو گا ﴿ وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ان کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔ ﴿ فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَ٘فْ٘سٌ شَیْـًٔؔا وَّلَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (یٰسٓ:36؍54) آج کسی جان پر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمھیں ویسی ہی جزا دی جائے گی جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

حين {تأتي كلُّ نفس تجادِلُ عن نفسها}: كلٌّ يقول: نفسي نفسي، لا يهمُه سوى نفسه؛ ففي ذلك اليوم يفتقر العبدُ إلى حصول مثقال ذرَّة من الخير. {وتُوفَّى كلُّ نفس ما عملت}: من خيرٍ وشرٍّ. {وهم لا يُظْلَمونَ}: فلا يزادُ في سيئاتهم، ولا يُنْقَصُ من حسناتهم. {فاليوم لا تُظْلَمُ نفسٌ شيئاً ولا تُجْزَوْن إلاَّ ما كنتُم تعملونَ}.